اہم خبریں

ایران پر نئی جنگ مسلط کی گئی تو نتائج مختلف ہوں گے، ایرانی سفیر

اسلام آباد( اے بی این نیوز)ایرانی سفیر رضاامیری مقدم نے کہاکہ مظاہرین کے نمائندوں کو کیمرے پر مذاکرات کی دعوت دی گئی،ہر فریق کو اپنی ایکسپرٹائز پیش کرنے کا موقع دیا گیا،حل نکالنے کے لیے بات چیت کا راستہ اختیار کیا گیا.مظاہرے بیک گراؤنڈ میں پرامن طور پر جاری رہے،سرکاری ریڈیو اور ٹی وی نے احتجاج کو عوام کا حق قرار دیا،ریاست کی ذمہ داری ہے کہ عوامی مسائل سنے جائیں،5دن تک احتجاج اور مذاکرات ساتھ ساتھ چلتے رہے.ٹرمپ کے ٹویٹ نے صورتحال کو بدل دیا،ٹرمپ نے مظاہرین کو آگے بڑھنے اور حملے کا پیغام دیا،نیتن یاہو مظاہرین کی حمایت کا اعلان کرچکےہیں،غیر ملکی بیانات کے بعد حالات میں اچانک تبدیلی آئی.

اےبی این نیوزکےپروگرام’’سوال سےآگے‘‘میں گفتگو کرتے ہوئے ایرانی سفیر نے کہا کہ گزشتہ جمعرات کو منظر نامہ یکسر بدل گیا،مظاہرین کے ساتھ موجود بچی کو باپ کی گود میں نشانہ بنایا گیا،تشدد کے واقعات نے ملک کو شدید نقصان پہنچایا گیا،پرامن مظاہرین اور کاروباری طبقے کا احتجاج حق تھا،دکانداروں اور بزنس کمیونٹی کا احتجاج جائز تھا،
پرامن مظاہرین کا تشدد سے کوئی تعلق نہیں،دوسری طرف شورش پھیلانے والے عناصر بھی موجود تھے،امن و امان خراب کرنے میں مسلح اور دہشت گرد عناصر ملوث ہیں،5دن گزرنے کے بعد سڑکوں پر صورتحال معمول پر آ چکی ہے،اس وقت کسی بڑے امن و امان کے مسئلے کا سامنا نہیں،

انہوں نے کہا کہ اتوار کو ملک بھر میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکلے،ایرانی عوام نے اسرائیل اور تشدد کے خلاف بھرپور احتجاج کیا،عوام نے شرپسند عناصر کے اقدامات کو مسترد کر دیا،اس وقت صورتحال مکمل کنٹرول میں ہے،کسی قسم کی ہڑتال، احتجاج یا شورش موجود نہیں،ملک بھر میں امن و امان بحال ہے،شرپسند عناصر اور دہشت گردوں کی بڑی تعداد گرفتارہوئی،امن خراب کرنے والوں کے نیٹ ورک توڑے جا چکے ہیں، ملوث عناصر کی گرفتاری کیلئے کارروائیاں جاری ہیں،سیکیورٹی ادارے الرٹ اور صورتحال پر مکمل نظرہے.

رضاامیری مقدم کا کہنا تھا کہ اب سوال ہلاکتوں کے اعداد و شمار پر اٹھایا جا رہا ہے،ایک امریکی تنظیم کی جانب سے 2400 ہلاکتوں کا دعویٰ کیاگیاہے،سرکاری سطح پر ان دعوؤں کی تصدیق نہیں ہوئی،اعداد و شمار پر حقائق جاننے کی ضرورت ہے،غیر مصدقہ دعووں سے فضا خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،حقیقت جاننے کیلئے شفاف تحقیقات ضروری ہیں.گزشتہ 4 دن سے مختلف شہروں میں شہدا کی تدفین جاری ہے،سیکیورٹی فورسز اور عام شہری شہید ہوئے،آج تہران میں 11 سیکیورٹی اہلکاروں کی نمازِ جنازہ اداکی گئی،سرکاری سطح پر حتمی اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے.مساجد کو نذر آتش کیا گیا، متعدد افراد جھلس کر شہیدہوئے،لاشوں کی شناخت ڈی این اے کے ذریعے کی جا رہی ہے،کئی افراد اس قدر مسخ کہ پہچان ممکن نہیں.

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی ذرائع سے آنے والے اعداد و شمار مشکوک ہیں،امریکی تنظیم کا 2400 ہلاکتوں کا دعویٰ مستردکرتےہیں،گرفتار افراد نے غیر ملکی فنڈنگ کا اعتراف کیا،گروپس کے سرغنہ بیرون ملک بھیجے گئے اور تربیت دی گئی،امریکہ اور اسرائیل کی مداخلت کے شواہد سامنے آئے،ٹرمپ کے ٹویٹس کو کوڈ ورڈز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے،مظاہرین کو سرکاری عمارتوں پر قبضے کا پیغام دیا گیا،نیتن یاہو اور ٹرمپ مسلسل اشتعال انگیزی کر رہے ہیں،ایرانی قوم بیرونی مداخلت کو مسترد کرتی ہے،ایران لیبیا، شام، یمن اور افغانستان کی مثالیں دیکھ چکا،ایرانی قوم امریکی وعدوں پر یقین نہیں رکھتی،غزہ میں ہونے والے مظالم ایرانی عوام کے سامنے ہیں. ان کا کہنا تھا کہ ایرانی قوم غلامی قبول کرنے والی نہیں،ایران کسی بھی جارحیت کا سخت جواب دے گا.

ایرانی سفیر نے کہا کہ اسرائیل پر پہلے بھی بھرپور میزائل ردعمل دیا گیا،امریکی مفادات کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے،امریکی جہاز اور اڈے ایران کی نظر میں ہوں گے،کسی بھی حملے کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا،پچھلی جنگ میں دشمن نے خود سیزفائر مانگا،ایران پر نئی جنگ مسلط کی گئی تو نتائج مختلف ہوں گے،ایرانی قوم کو کمزور سمجھنا سنگین غلطی ہوگی.
مزید پڑھیں‌:حکومت پی ٹی آئی سے مذاکرات کیلئے تیار ہے،طارق فضل چودھری

متعلقہ خبریں