اسلام آباد( اے بی این نیوز) پی ٹی آئی رہنمانعیم حیدر پنجوتھہ نے کہا کہ جمہوریت کی بات کی جاتی ہے مگر عملی طور پر اسے تسلیم نہیں کیا جا رہا،تحریکِ تحفظِ آئین کو عمران خان نے مذاکرات اور احتجاج دونوں کا مینڈیٹ دیا،مذاکرات اور میثاقِ جمہوریت کی بات ہوئی مگر عملی پیش رفت نظر نہیں آئی،جمہوریت کی بات کی جا رہی ہے مگر عملی طور پر جمہوری اصول تسلیم نہیں کیے جا رہے،تحریکِ تحفظِ آئین کو عمران خان کی جانب سے احتجاج اور مذاکرات دونوں کا مینڈیٹ حاصل ہے،بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں پر پابندی کے باوجود سنجیدہ سیاسی کردار ادا نہیں کیا گیا،حکومتی طرزِ عمل سے جمہوریت اور قانون کی بالادستی کا تاثر قائم نہیں ہوا.
اے بی این کے پروگرام’’تجزیہ ‘‘میں گفتگو کرتے ہوئےنعیم حیدر پنجوتھہ نے کہا کہ تحریکِ تحفظِ آئین کے قافلے پر راستے میں حملے اور تشدد کے واقعات پیش آئے،
لاہور میں کارکنوں کی گرفتاریاں، چھاپے اور مقدمات درج کیے گئے،اپوزیشن لیڈرکا نوٹیفکیشن تاحال جاری نہ ہونا جمہوری عمل پر سوالیہ نشان ہے،اڈیالہ جیل کے باہر مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا جاتا ہے،پاکستان میں رول آف لا اور جمہوریت کا احترام ضروری ہے،بانی پی ٹی آئی جیل میں پابند سلاسل، جھوٹے مقدمات کا سامنا کررہے ہیں،جلسوں اور عوامی اجتماعات میں لاٹھی چارج اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا،جمہوریت اور عوامی پیغام دبانے کی کوششیں رپورٹ کی گئیں،تمام صورتحال آزاد میڈیا اور مختلف اداروں کی رپورٹنگ میں سامنے آئی.
دوسری جانب ،لیگی رہنما رانا شہریار نے کہا کہ ہماری جماعت نے ہمیشہ ملک کی خاطر قربانیاں دیں، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نہیں، پورا پاکستان اس کا بینیفشری ہے،
ن لیگ نے ڈیڑھ دو سالہ حکومت میں اپنا سیاسی نقصان ملک کی خاطر برداشت کیا،پاکستان کے تمام شہری ان فیصلوں سے مستفید ہو رہے ہیں،تحریک انصاف انتشار کی سیاست چھوڑ کر مذاکرات کی میز پر آئے،ملک کو آگے بڑھانے کے لیے سیاسی مکالمہ ضروری ہے،جمہوریت پاکستان اور عوام کے مفاد میں ہونی چاہیے،سیاست عوام کی بہتری کے لیے ہونی چاہیے، ذاتی مفاد کے لیے نہیں،مسلم لیگ ن نے ہمیشہ جمہوری حکومت کی حمایت کی ہے.
انہوں نے کہا کہ ملک میں میثاق جمہوریت ہونا چاہیے،پی ٹی آئی 8فروری کو انتشار پھیلانے کی کوشش کررہی ہے ،انتشار کی سیاست کوترک کریں ہم مذاکرات کیلئے تیار ہیں،پی ٹی آئی کو احتجاج کی کال واپس لے کر مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا،پاکستان کی خاطر سنجیدہ بات چیت کے لیے تیار ہیں،رویوں میں تبدیلی سے ڈیڈ لاک کا معاملہ حل ہو سکتا ہے،احتجاج اور دباؤ کی سیاست سے مسائل حل نہیں ہوں گے،پی ٹی آئی سنجیدگی کا مظاہرہ کرے، انتشار کی سیاست ترک کرے،مسائل کے حل کے لیے بات چیت کا عمل جاری رکھا جائے گا.
تیسری جانب، رہنما پاکستان پیپلزپارٹی ( پی پی پی )سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ جمہوریت کی بات کرنے والے پارلیمنٹ سے باہر کیوں نکلے؟پاکستان میں صرف بڑی نہیں، چھوٹی جماعتیں بھی سیاسی حقیقت ہیں ،پارلیمنٹ کو کمزور کر کے جمہوریت مضبوط نہیں ہوتی،الیکشن کے بعد بھی مفاہمت کی پیشکش کی گئی، مگر قبول نہ کی گئی،
بات چیت اجازت سے نہیں، آئین سے ہوتی ہے،جمہوریت سڑکوں سے نہیں، پارلیمنٹ سے چلتی ہے،پی ٹی آئی کے مؤقف میں نہ تسلسل ہے نہ سنجیدگی نظر آتی ہے،میثاقِ جمہوریت قانونی اور سیاسی دباؤ سے نکلنے کی ایک کوشش ہے،پی ٹی آئی میں تضاد ہے، ایک طرف میثاق کی بات دوسری طرف اشتعال انگیز ی کرتے ہیں،
ماضی میں تمام پارلیمانی جماعتوں کے مذاکرات تین دن بعد بے نتیجہ رہے.
انہوںنے مزید کہا کہ سیاسی سرگرمی کے لیے ضابطے اور اجازت ضروری ہوتی ہے،جناح گراؤنڈ نہ ملنے پر سڑکوں پر آنے کا فیصلہ خود کیا گیا،سڑکوں پر احتجاج کے لیے سیکیورٹی اور انتظامات ناگزیر ہوتے ہیں،روٹ کی خلاف ورزی اور قانون ہاتھ میں لینے سے مسائل پیدا ہوئے،مہمان ہونے کے باوجود قانون شکنی برداشت نہیں کی جا سکتی،
کراچی میں پی ٹی آئی کے کسی کارکن کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کی گئی،پی ٹی آئی سنجیدہ سیاست کے بجائے انتشار کی سیاست کر رہی ہے.
مزید پڑھیں:جنید صفدر کی شادی کا کارڈ سوشل میڈیا پر وائرل















