اسلام آباد (اے بی این نیوز) پاور ڈویژن کے مطابق حکومت کی اصلاحاتی پالیسیوں کے نتیجے میں صنعتوں سے منسلک بجلی کی کراس سبسڈی میں اب تک 123 ارب روپے کی نمایاں کمی آ چکی ہے۔ سال 2024 میں صنعتوں پر عائد کراس سبسڈی کو 225 ارب روپے سے کم کر کے 102 ارب روپے تک محدود کر دیا گیا ہے۔
پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ اس سے قبل صنعتوں پر کراس سبسڈی 8.9 روپے فی یونٹ بنتی تھی، جو اب کم ہو کر 4.02 روپے فی یونٹ رہ گئی ہے۔ اسی کمی کے باعث صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے نرخ 62.99 روپے فی یونٹ (بشمول ٹیکس) سے کم ہو کر 46.31 روپے فی یونٹ ہو گئے ہیں۔
قومی سطح پر بھی بجلی کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں اوسط فی یونٹ قیمت 53.04 روپے سے کم ہو کر 42.27 روپے ہو گئی ہے۔ پاور ڈویژن کے مطابق یہ کمی ناکارہ پاور پلانٹس کی بندش اور آئی پی پیز کے ساتھ کامیاب مذاکرات اور نئے معاہدوں کا نتیجہ ہے۔
حکومت صنعتوں اور زراعت کے لیے اضافی کھپت بجلی پیکج کے تحت تین سال کے لیے 22.98 روپے فی یونٹ بجلی فراہم کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سرکلر ڈیٹ کے خاتمے کے لیے بھی جامع پلان پر کام جاری ہے۔ حکام کے مطابق سرکلر ڈیٹ ختم ہونے کے بعد فی یونٹ 3.23 روپے کا سرچارج بھی ختم کر دیا جائے گا۔
پاور ڈویژن نے بتایا کہ آف گرڈ سولر توانائی کے فروغ کے باعث پروٹیکٹڈ صارفین کی تعداد 2021 میں 11 ملین سے بڑھ کر 22 ملین ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں بجلی کے شعبے پر اضافی مالی دباؤ آیا ہے۔ اس وقت کمرشل اور بلک سپلائی صارفین صنعتوں کے مقابلے میں زیادہ کراس سبسڈی کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کے ٹیرف وسیع تر سماجی و معاشی پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں اور محض وصولی کا ذریعہ نہیں، تاہم صنعتی صارفین پر کراس سبسڈی کا بوجھ مزید کم کرنے کے لیے سبسڈی اصلاحات، قرضوں کی ری فنانسنگ اور دیگر آپشنز پر غور جاری ہے، جبکہ ٹیرف میں کمی کے پہلے سے نافذ اقدامات کا تسلسل بھی برقرار رکھا جائے گا۔
مزید پڑھیں:افغان باشندوں کی ملک بدری جاری















