اہم خبریں

آئندہ دنوں میں پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملی فیصلہ کن ہوگی، حلیم عادل شیخ

اسلام آباد (اے بی این نیوز)صدر پی ٹی آئی سندھ حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں جلسے کے دوران انتظامی ابہام اور این او سی میں تاخیر کے باعث مشکلات پیدا ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ حالات بہتر ہو رہے تھے اور جماعت کا ردعمل مثبت تھا، تاہم جلسے کی تیاری کے لیے 26 کنٹینرز اور ہزاروں کرسیاں درکار تھیں لیکن 10 تاریخ کی صبح تک این او سی موصول نہیں ہوئی۔

اے بی این نیوز کے پروگرام ’’سوال سے آگے‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے حلیم عادل شیخ نے بتایا کہ جلسہ 11 تاریخ کو تھا، شام 5 بجے تک اجازت نہیں ملی، اچانک پولیس اور اینٹی رائٹ بریگیڈ پہنچ گئی، اور صورتحال غیر واضح رہی۔ ڈیڑھ بجے پولیس کی موجودگی نے مزید کنفیوژن پیدا کیا اور انتظامی ابہام کی وجہ سے مشکلات بڑھ گئیں۔ ڈھائی بجے جامع جناح گیٹ پر تالہ لگا دیا گیا، جبکہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے آدھا گھنٹہ انتظار کی ہدایت دی۔

انہوں نے مزید کہا کہ حیدرآباد سے کراچی کا ڈیڑھ گھنٹے کا سفر 7 گھنٹوں میں مکمل کروایا گیا، پولیس موبائلز نے راستے بند کیے، مٹی ڈال کر سڑکیں خراب کی گئیں، اور این او سی کے بعد رات 12 بجے 25 گاڑیوں کے شیشے توڑے گئے۔ صدر پی ٹی آئی سندھ کے مطابق گرفتاریوں کی ویڈیوز موجود ہیں اور جلسے کی اجازت دینے اور واپس لینے کی وجہ آج تک سمجھ نہیں آئی۔

حلیم عادل شیخ نے نون لیگ پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سیاسی حیثیت محدود ہو چکی ہے اور عوامی ردعمل نے نئی سیاسی بحث چھیڑ دی ہے۔ ان کے مطابق آئندہ دنوں میں جماعت کی سیاسی حکمتِ عملی فیصلہ کن ہوگی۔

دوسری جانب، پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ حکومت پیپلز پارٹی کے بغیر نہیں چل سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے بلدیاتی معاملات کو متاثر کرنا تشویشناک ہے اور بلدیاتی نظام میں مداخلت حکومت کی مقبولیت پر سوالیہ نشان ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر سیکیورٹی خدشات سنگین ہوتے تو جلسہ ممکن نہ تھا، استقبال اپنی جگہ، لیکن پنجاب جیسے مناظر سندھ میں نظر نہیں آئے۔ انہوں نے کہا کہ مہمانوں کی بدتمیزی اور میزبان کے بڑوں کو برا بھلا کہنا ناقابل قبول ہے اور سیاسی اختلافات تہذیب اور شائستگی کے ساتھ رہنے چاہئیں۔
مزید پڑھیں‌:پیپلز پارٹی کا احتجاج رنگ لے آیا، حکومت نے اسپیشل اکنامک زون ترمیمی آرڈیننس 2026 واپس لے لیا

متعلقہ خبریں