اہم خبریں

پی ٹی آئی دور میں غربت کم ، موجودہ حکومت کے دعوےمشکوک ، ڈاکٹر ہمایوں مہمند

اسلام آباد (اے بی این نیوز) مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما زاہد خان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی صورتحال انتہائی سنگین ہو چکی ہے، خصوصاً جنوبی اضلاع میں شام کے بعد مکمل لاک ڈاؤن جیسی صورتحال ہے اور عوام شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں۔

اے بی این کے پروگرام ڈی بیٹ @8 میں گفتگو کرتے ہوئے زاہد خان نے بتایا کہ علاقے میں ایک مولانا کی شہادت کے بعد عدم تحفظ میں مزید اضافہ ہوا ہے، جبکہ پولیس کی شام کے بعد نقل و حرکت بھی ممکن نہیں رہی۔ انہوں نے کہا کہ وزرا اور منتخب نمائندے اپنے ہی اضلاع میں جانے سے قاصر ہیں۔

زاہد خان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا تعلق خیبر ایجنسی سے ہونے کے باوجود وہ خود وہاں جانے سے قاصر ہیں، جس سے صوبے کی سنگین صورتحال کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال وفاقی حکومت کے لیے ایک کھلا امتحان بن چکی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کو صوبے کی سیکیورٹی اور ترقیاتی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دے دی گئی ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں میں توانائی اور ترقیاتی منصوبے دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ زاہد خان کے مطابق وزیراعظم نے سیکیورٹی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور تمام نمائندوں سے تفصیلی مشاورت کی۔

مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما نے مزید بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے، جس کا مقصد امن و امان کی بہتری کے لیے فوری آپشنز پر غور کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی اولین ترجیح حالات کو بہتر بنانا ہے، تاہم اگر صورتحال قابو میں نہ آئی تو آئینی راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔

زاہد خان نے واضح کیا کہ فی الحال حکومت کا فوکس امن، بہتری اور استحکام پر ہے تاکہ خیبرپختونخوا میں معمولاتِ زندگی بحال کیے جا سکیں۔

دوسری جانب ،سینئر سیاستدان دانیال عزیز نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں حکومتی کارکردگی اور سیاسی و اقتصادی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تجربہ کار ٹیم کے دعوے دیکھ لیے، لیکن نتائج خیبرپختونخوا میں صفر ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ پی ٹی آئی کے مضبوط اضلاع میں بھی عوام شدید مایوس ہیں اور صوبے میں پارٹی اقتدار میں آ کر دوبارہ نظر نہیں آتی۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں بے روزگاری کی شرح 7 فیصد ہے، جبکہ خیبرپختونخوا میں یہ 9 فیصد تک پہنچ چکی ہے، اور نوجوانوں میں بے روزگاری خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ دانیال عزیز نے یاد دلایا کہ لیبر فورس سروے پی ٹی آئی دور میں ہی بند کر دیا گیا تھا، اور کروڑوں نوکریوں کے دعوے کے باوجود اعداد و شمار الٹی کہانی سنا رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ انتخابات کا نظام کام نہیں کر رہا اور انتظامیہ کی کارکردگی ناکام ہے۔ پچھلے 15 سال میں بنیادی سروسز میں کوئی نمایاں بہتری نہیں آئی، اور انتظامیہ نے مقامی سطح پر عوامی اثر و رسوخ کو محدود کر دیا ہے۔

دانیال عزیز نے کہا کہ سیاسی جماعتوں نے یونین سطح پر آرٹیکل 1408 منظور کروایا، لیکن انتظامیہ اور سیاسی جماعتیں عوامی مفاد کی بجائے اپنی پوزیشن پر فوکس کر رہی ہیں۔ اکثر سیاسی جماعتیں اپنے منشور اور وعدے پورے نہیں کرتیں۔

ان کے مطابق خیبرپختونخوا اور پنجاب میں لوکل گورنمنٹ کا نظام محدود اور ناکافی ہے، ترقیاتی پروجیکٹس اکثر فنڈنگ اور زمینی مسائل کی وجہ سے مؤثر نہیں ہوتے۔ دانیال عزیز نے عدلیہ پر بھی تنقید کی اور کہا کہ عدلیہ آئین کے تحفظ کے لیے بنی، لیکن بعض معاملات میں وہ ناکام رہتی ہے۔

تیسری جانب ،سینئر رہنما پی ٹی آئی سینیٹر ڈاکٹر ہمایوں مہمندنے کہاکہ ملکی معیشت اور بیروزگاری کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ پی ٹی آئی دور میں حاصل شدہ ترقیاتی کامیابیاں موجودہ حکومت کے دعووں کے برعکس خطرے میں ہیں۔

ڈاکٹر ہمایوں مہمند نے بتایا کہ پشاور بی آر ٹی (BRT) کو دنیا میں دوسرا نمبر کا ایوارڈ مل چکا ہے اور یہ منصوبہ سبسڈی پر نہیں بلکہ اپنے اخراجات خود پورے کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دور میں غربت کی شرح 22 فیصد سے کم ہو کر 18 فیصد تک آئی، جبکہ موجودہ حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں غربت 50 فیصد کے قریب پہنچ گئی ہے، جس سے موجودہ حکومت کے غربت کم کرنے کے دعوے مشکوک نظر آتے ہیں۔

پی ٹی آئی رہنما نے لاہور کی صنعتی صورتحال پر بھی روشنی ڈالی اور بتایا کہ لاہور کی 900 میں سے 400 صنعتیں بند ہو چکی ہیں اور گزشتہ 4 سے 5 سال میں 25 بڑی کمپنیاں ملک چھوڑ کر دیگر ممالک منتقل ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف ایک سال میں مزید 5 بڑی کمپنیاں پاکستان چھوڑ رہی ہیں۔

ڈاکٹر ہمایوں مہمند نے ملک میں بدترین بیروزگاری کی نشاندہی کی اور کہا کہ پی ٹی آئی دور میں بیروزگاری 5.4 فیصد تھی، جبکہ موجودہ حکومت کے دور میں حالات تشویشناک حد تک خراب ہو گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تقریباً 5 سے 10 ہزار کمپنیاں پاکستان چھوڑ کر دبئی منتقل ہو چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں انتخابات اور سیاسی نظام مکمل طور پر مؤثر نہیں ہیں اور انتظامیہ لوکل سطح پر مضبوط حکومت قائم نہیں ہونے دیتی، جس سے مقامی سطح پر ترقی اور عوامی خدمت متاثر ہو رہی ہے۔
مزید پڑھیں‌:پی ٹی آئی کے لیے بڑی خوشخبری،اہم پیش رفت

متعلقہ خبریں