اہم خبریں

قومی مکالمہ کسی ایک جماعت کے فائدے کے لیے نہیں ہو سکتا، رانا احسان افضل

اسلام آباد (اے بی این نیوز)وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل نے کہا ہے کہ جیل میں قیدیوں کے بارے میں یہ تاثر دینا درست نہیں کہ سب سیاسی انتقام کا شکار ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ خواتین قیدیوں کے معاملات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اور کوئی ایسا کیس نہیں جس میں قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہو۔ جہاں ممکن ہو، رہائی فراہم کی جائے گی۔

اے بی این کے پروگرام ’’سوال سے آگے‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئےرانا احسان افضل نے کہا کہ پارلیمانی طریقہ کار کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطے جاری ہیں اور حکومت باتوں نہیں بلکہ عملدرآمد پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے لیے حکومت کے دروازے کبھی بند نہیں رہے اور اصل مسئلہ یہ ہے کہ بیشتر پارلیمنٹیرینز ذہنی طور پر قید میں ہیں۔

کوآرڈینیٹر وزیراعظم نے بتایا کہ عمران خان اپنے ارکان کو آزادانہ فیصلے کی اجازت نہیں دیتے، اور ملکی مفاد میں انہیں ذہنی قید سے باہر آنا ہوگا۔ فیصلہ اب اپوزیشن ارکان کو کرنا ہے اور مذاکرات میں مثبت سنجیدگی دکھانا ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ قومی مکالمہ کسی ایک جماعت کے فائدے کے لیے نہیں ہو سکتا اور ملک کو آگے بڑھانے کے لیے سنجیدہ مذاکرات ناگزیر ہیں۔ اپوزیشن کا کام نظام کو مفلوج کرنا نہیں بلکہ اصلاح کی بات کرنا ہے، اور سیاسی و کریمنل معاملات کو الگ الگ دیکھا جانا چاہیے۔

رانا احسان افضل نے آخر میں کہا کہ حکومت اپوزیشن سے پارلیمنٹ کے پلیٹ فارم پر بات چیت کے لیے تیار ہے اور پارلیمنٹ سے نکلنے کے بجائے اسی میں بیٹھ کر مسائل حل کیے جانے چاہئیں۔

دوسری جانب ، ماہرقانون فیصل چودھری نے کہا ہے کہ حکومت مذاکرات کے معاملے میں سنجیدہ نظر نہیں آ رہی اور سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپیکر آفس مذاکرات کے لیے موزوں پلیٹ فارم ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر آنا ہوگا تاکہ مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے ممکن ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں بڑھتا سیاسی تناؤ فوری توجہ کا متقاضی ہے اور مذاکرات میں سنجیدگی وقت کی سب سے بڑی ضرورت بن چکی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ اقتدار میں ہونے کے ناطے سیاسی ماحول بنانے اور پارلیمنٹ کے عمل کو مکمل کرنے کی ذمہ داری اس کی ہے۔

فیصل چودھری کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے بغیر پارلیمنٹ مکمل نہیں ہوتی اور اپوزیشن سے بات کیے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں۔ فیصل چودھری نے خبردار کیا کہ اگر لڑائی کی سیاست جاری رہی تو ملک کو صرف بحران کا سامنا کرنا پڑے گا، اور سیاسی مسائل کا حل صرف بات چیت میں ممکن ہے، ٹکراؤ میں نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت خود مذاکراتی عمل میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے، اور ملک میں اصل مسئلہ سیاسی عدم استحکام ہے، کیونکہ چند افراد کی جمعیت پر ریاست بھی گھبرا جاتی ہے۔
مزید پڑھیں‌:حکومت مذاکرات کے حوالے سے سنجیدہ نظر نہیں آ رہی،فیصل چودھری

متعلقہ خبریں