اہم خبریں

خطے میں نئی سرد جنگ، پاکستان، ایران اور چین کو ایک صفحے پر ہونا ہوگا، مشاہد حسین سید

اسلام آباد (اے بی این نیوز) پاکستان چائنا انسٹیٹوٹ کے چیئرمین مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ ونیزویلا کا منظر کسی فلم کا نہیں بلکہ زمینی حقیقت لگتا ہے، اور امریکہ عالمی معاملات کو اپنی طاقت کے ذریعے حل کرنے کی سوچ رکھتا ہے۔

اے بی این نیوز کے پروگرام ’’سوال سے آگے‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے مشاہد حسین سید نے کہا کہ امریکی صدر کی “جس کی لاٹھی، اس کی بھینس” کی ذہنیت خطے میں دیگر ممالک پر بھی اثر ڈال رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ توانائی کے حصول کے لیے دور دراز ممالک پر انحصار کر رہا ہے اور تیل کے سودوں پر نئی کشیدگیاں پیدا ہو رہی ہیں۔

مشاہد حسین سید نے کہا کہ امریکہ کو بیک وقت کئی محاذوں پر چیلنجز کا سامنا ہے، اور یوکرین کی جنگ عالمی سیاست کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئی ہے۔ کمزور ممالک خطرے میں ہیں اور ایشیا میں بالواسطہ جنگوں کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “طاقت ہی حق ہے” کی سوچ عالمی امن کے لیے خطرہ ہے اور امریکی پالیسی کے اندرونی اختلافات بھی عیاں ہو رہے ہیں۔ داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے بیرونی محاذ گرم کیے جا رہے ہیں، جبکہ عالمی نظام ایک نئے، غیر یقینی دور میں داخل ہو چکا ہے۔

چیئرمین پاکستان چائنا انسٹیٹوٹ نے مزید کہا کہ امریکہ، چین اور روس کے درمیان نئی سرد جنگ شروع ہو چکی ہے، جہاں بات چیت بھی ہو رہی ہے اور حملے بھی، یہ کھلی منافقت ہے۔ ایران کے معاملے میں دوہرا معیار بھی بے نقاب ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین پر شور، ایران پر خاموشی کھلا تضاد ہے۔

بلوچستان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان اور ایران دونوں کے لیے مشترکہ سلامتی کا معاملہ ہے، اور اصل خطرہ براہ راست حملہ نہیں بلکہ اندرونی عدم استحکام ہے۔

مشاہد حسین سید نے زور دیا کہ پاکستان، ایران اور چین کو ایک صفحے پر ہونا ضروری ہے اور پاکستان نے ایران کے معاملے پر واضح اور متوازن مؤقف اپنایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں طاقت کا توازن پاکستان کے حق میں ہے، اور واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان کشیدگی جنوبی ایشیا پر اثر ڈال رہی ہے۔ ان کے مطابق 2026 میں خطے کی سیاست نئی سمت اختیار کرے گی۔
مزید پڑھیں‌:ایران کا بڑا فیصلہ،ٹرمپ کی دھمکی کے جواب میں پلان ’بی‘ تیار

متعلقہ خبریں