اہم خبریں

انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی مذہبی و لسانی تعصب کی آماجگاہ ، ڈاکٹر رفاقت علی

اسلام آباد( اے بی این نیوز)انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں فیکلٹی آف عربیک کی خالی آسامیوں پر ہونے والی حالیہ تعیناتیوں پر مذہبی اور لسانی تعصب کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں، جس کے بعد جامعہ کے تعلیمی اور انتظامی کردار پر کئی سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں.

ذرائع کے مطابق 24 دسمبر کو فیکلٹی آف عربیک میں خالی آسامیوں پر تعیناتی کے لیے سلیکشن بورڈ کا اجلاس منعقد ہوا ۔ اجلاس کے انعقاد سے دو دن پہلے ایک سینئر استاذ ڈاکٹر حافظ محمد اسلم کی اہلیت اور استحقاق کی بات کی گئی، جو اسی جامعہ کے فارغ التحصیل ہیں، اور گزشتہ تقریباً سترہ برس سے تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں، تاہم ڈین فیکلٹی آف عریبک نے مسلکی بنیادوں پر انہیں نظر انداز کر دیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کے دوران فیکلٹی آف عربیک کے ڈین ڈاکٹر فضل اللہ کی جانب سے امیدوار کے بارے میں مذہبی بنیاد پر نازیبا اور امتیازی ریمارکس دیے گئے، جس کے نتیجے میں مذکورہ امیدوار کو نظرانداز کر دیا گیا، جبکہ ان سے کم اہلیت رکھنے والے افراد، حتیٰ کہ بعض ایسے امیدوار بھی منتخب کر لیے گئے ہین، جن کے پاس پی ایچ ڈی جیسی بنیادی اہلیت بھی موجود نہیں تھی۔

اساتذہ کے حلقوں میں اس صورتحال پر شدید تشویش پائی جاتی ہے، ان کا کہنا ہے کہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی ایک عالمی ادارہ ہے، جہاں مذہبی یا لسانی تعصبات کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ تعیناتیوں میں شفافیت، اہلیت اور میرٹ کو نظرانداز کرنا نہ صرف تعلیمی معیار کو نقصان پہنچاتا ہے، بلکہ ادارے کی ساکھ پر بھی سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔

متاثرہ فریقین اور تعلیمی حلقوں نے ریاستی اداروں، ہائر ایجوکیشن کمیشن اور یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، 24 دسمبر کو ہونے والے سلیکشن بورڈ کے فیصلوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، اور جن اساتذہ کے کیریئر کو مذہبی منافرت یا تعصب کی بنیاد پر متاثر کیا گیا ہے، انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔

تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے، کہ جامعات میں اس قسم کے رویے نہ صرف آئینِ پاکستان اور تعلیمی ضوابط کے منافی ہیں، بلکہ علمی و فکری آزادی کے بھی خلاف ہیں، جن کا تدارک ناگزیر ہو چکا ہے ۔ ریاستی اداروں سے گزارش ہے کہ اس کی اور جیسے دیگر واقعات کی تحقیقات کرائیں؛ تاکہ ملک پاکستان کو کسی بڑے خطرے سے بچایا جا سکے۔
مزید پڑھیں‌:ظہران ممدانی کے فیصلے سے مخالف حلقوں میں تشویش

متعلقہ خبریں