لاہور ( اے بی این نیوز )بھارت سے آنے والے 15 لاکھ کیوسک پانی نےپنجاب میں تبا ہی مچا دی ۔ دریائے راوی، چناب اور ستلج میں شدید طغیانی، لاہور، قصور، جھنگ، پاکپتن، بہاولنگر، بہاولپور ، نارووال، سیالکوٹ، حافظ آباد، چنیوٹ، منڈی بہاؤالدین، گوجرانوالہ، وزیر آباد اور سرگودھا سمیت 18 اضلاع متاثر۔ 1700 سے زائد دیہات ڈوب گئے۔
14 لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد متاثر۔ درجنوں افراد سیلابی ریلوں میں بہہ گئے۔ بڑے پیمانے پر نقل مکانی۔ مختلف مقامات پر متا ثر ین بے یا ر ومددگار ۔ لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی پر کھڑی فصلیں تباہ ۔ درجنوں رابطہ سڑکیں۔ پُل اور کئی چھوٹے بند ٹوٹ گئے ۔ دریائے راوی نے لاہور میں دریا کنارے کئی بستیاں ڈبو دیں۔
نارووال کے 75۔ شیخوپورہ کے 4 اور ننکانہ صاحب کا ایک گاؤں زیرِ آب ۔ شکر گڑھ، کرتار پورہ اور بلوکی کے علاقے ۔ نارووال روڈ بھی سیلاب کی زد میں آگیا۔ شکر گڑھ شاہراہ ٹریفک کیلئے بند۔ کرتارپورہ ۔ جلالپوربھٹیاں کے مقام پر سیلابی ریلا آبادیوں میں داخل ۔ پنڈی بھٹیاں میں درجنوں دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ۔
ہیڈ بلوکی دریا کے کے قریب دیہات خالی نہ کرنے پر 25 افراد گرفتار۔ دریائے ستلج سے 361 دیہات متاثر ۔ قصور کے 72، اوکاڑہ کے 86۔ پاکپتن کے 24۔ ملتان کے 27۔ وہاڑی کے 23۔ بہاولنگر کے 104 اور بہاولپور کے 25 دیہات شامل ہیں۔ دریائے چناب نے 991 دیہات ڈبو دئیے۔ سیالکوٹ میں 395۔
جھنگ میں 127۔ ملتان میں 124۔ چنیوٹ میں 48۔ گجرات میں 66۔ خانیوال میں 51۔ حافظ آباد میں 45۔ سرگودھا میں 41۔ منڈی بہاالدین میں 35 اور وزیرآباد میں 19 دیہات متاثر ہوئے۔ ۔ جلالپور بھٹیاں اورپھالیہ کے سیکڑوں دیہات د ریا کا منظر پیش کرنے لگے ۔ کوٹ مومن میں پانی کھیتوں اور قریبی آبادیوں میں داخل ۔
بجلی کی سپلائی معطل۔ جھنگ اورچنیوٹ کو دریائے چناب کے سیلاب سے بچانے کیلئے رواز پل کے قریب بند کو توڑ دیا گیا۔ چنڈ بھروانہ کے قریب راگو آنہ کے مقام پر تین جگہوں سے ریلوے ٹریک کو بھی دھماکہ خیز مواد سے اڑایا گیا۔ کئی دیہات میں پانی داخل ۔ اس سے پہلے ۔ دریا ئے چناب کے دو بند دھماکے سے توڑنے کے بعد حافظ آباد۔
وزیر آباد اور پھالیہ کے سیکڑوں دیہات میں پانی داخل ہو گیا تھا ۔ پنجاب میں شدید سیلاب کا خطرہ برقرار۔ ایک اور الرٹ جاری ۔ بھارت سے ایک اور سیلابی ریلا آج شام دریائے چناب کے تریموں بیراج پہنچے گا۔ بیراج پر انتہائی اونچے درجے کا سیلابی ریلا ہوگا۔ 2 ستمبر کو ہیڈ پنجند کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلابی ریلا پہنچے گا۔
بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں سلال ڈیم کے دروازے بھی کھول دیئے۔ ترجمان این ڈی ایم اے کے مطا بق ممکنہ شدید سیلابی صورتحال جھنگ اورملحقہ علاقوں کومتاثرکرےگی۔ ہیڈ پنجندمیں6 لاکھ50ہزارسے7لاکھ کیوسک کابہاؤمتوقع۔ حافظ آباد، چنیوٹ، ملتان، پنجند اوربہاولپور کے علاقوں میں انخلاکی ہدایات جاری۔
دریائےراوی میں پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ۔ دریائے سندھ میں سیلابی کیفیت خطرناک شکل اختیار کر گئی۔ ، حکام کے مطابق پانچوں دریاؤں کا پانی دریائے سندھ میں کوٹ مٹھن کے مقام پر جمع ہو رہا ہے جو آئندہ چند روزمیں روجھان سے گزرے گا۔ چا ر اور پانچ ستمبر کو گدو بیراج میں داخل ہو گا ۔ آج پنجاب سمیت ملک بھر میں مون سون بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کی بھی پیشگوئی ۔
مزید پڑھیں :پاکستان میں کرپٹو کی تاریخ ساز کامیابی ابوکارٹل بنا کریپٹو کنگ آف پاکستان کا اعزاز اپنے نام کرلیا