اہم خبریں

پانچ ججز متفق تھے سویلینز کا ملٹری ٹرائل نہیں ہو سکتا، آ ئینی بینچ کے ریما رکس

اسلام آباد (  اے بی این نیوز   ) پانچ ججز متفق تھے سویلینز کا ملٹری ٹرائل نہیں ہو سکتا۔ آ ئینی بینچ کے فوجی عدالتوں کے کیس میں ریما رکس۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا ججز نے اضافی نوٹ نہیں بلکہ فیصلے لکھے تھے۔ جسٹس منصور نے ماضی سے اپیل کا حق درست قراردیا تھا میں نے اختلاف کیا۔ ماضی سے اپیل کا حق مل جاتا تو 1973 سے اپیلیں آنا شروع ہو جاتیں۔ ملزم فرم جرم عائد ہونے سے قبل بھی ملزم ہی ہوتا ہے۔ سول سوسائٹی کے وکیل فیصل صدیقی نے دلائل میں کہا
تمام ججز کا ایک دوسرے کے فیصلے سے اتفاق تھا۔ عزیر بھنڈاری کے موقف سے اتفاق نہیں کرتا۔ سویلین کو فوجی تحویل میں دینے کا فیصلہ درست نہیں ۔ ۔ حوالگی فرد جرم عائد ہونے کے بعد ہی دی جاسکتی ہے۔ جسٹس امین الدین خان نے کہا نظرثانی فیصلہ دینے والا جب کہ انٹرا کورٹ اپیل لارجر بنچ سنتا ہے۔ لارجر بنچ مقدمہ پہلی بار سن رہا ہوتا اس لیے پہلے فیصلے کا پابند نہیں ہوتا۔ عدالت کو خود اپنا دائرہ اختیار طے کرنا ہوتا ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے ریما رکس دیئے۔ کیا لازمی ہے کہ کوئی فریق ہی دائرہ اختیار کا اعتراض کرے؟ کیا عدالت کو خود دیکھنا ہوتا ہے کہ اسے اختیار سماعت ہے یا نہیں؟ آرمی ایکٹ میں تو ایف آئی آر کا تصور ہی نہیں ہے۔۔ فیصل صدیقی نے کہا اگر کوئی مزار قائد کا قبضہ مانگ لے تو کیا عدالت یہ کہے گی کسی نے دائرہ اختیار پر اعتراض نہیں کیا؟ سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی۔

مزید پڑھیں :پاکستان میں فارماسیوٹیکل تجارت کے فروغ کیلئے ڈیجیٹل کلیرنس گیٹ وے کا آغاز

متعلقہ خبریں