اسلام آباد ( رپورٹ جاوید شہزاد ) سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی جانب سے جمعہ کو اچانک پی ٹی آئی کے مزید 35 اراکین قومی اسمبلی کے استعفے منظور کر کہ تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کو درہم برہم کر کہ رکھ دیا ہے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے دوران ہی پی ٹی آئی کے راہنماوں کو سپیکر قومی اسمبلی کے دوسرے وار کی اطلاع ملی ہے جس پر پارلیمانی پارٹی کا اجلاس مشتعل ہوگیا ہے اور پارٹی راہنماوں نے ھنگامی بنیادوں پر پارلیمنٹ ہاوس جانے اور سپیلر قومی اسمبلی کے روبرو پیش ہوکر اپنے اپنے استعفے واپس لینے کا اعلان لردیا پارلیمانی پارٹی کے ممبران اور دیگر اراکین قومی اسمبلی فواد چوہدری کی قیادت میں خیبر کے پی کے ہاوس سے پیدل ہی پارلیمنٹ ہاوس کی جانب چل پڑے اور اسد قصٰر نے راستے میں اس لانگ مارچ کو جوائن کیا میجر طاہر صادق اور دیگر خواتین ارارکین اسمبلی بھی لانگ مارچ قافلے کا حصہ بن گئیں پارلیمانی پارٹی کےقائدین اور ممبران غحیران تھے کہ سپیلر قومی اسمبلی کو اتنی کون سی عجلت تھی کہ وہ ھنگامی بنیادوں پر ہمارے استعفے منظور کرنا شروع ہوگے ہیں سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے 35 استعفے منظور کر نے کی وجہ سے شاہ محمود قریشی کی اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ کے پی کے ہاوس میں پریس کانفرنس بھی دھری کی دھری رہ گئی اور وہ پارلیمانی پارٹی کےا جلاس میں ہونے والے فیصلوں کئ بارے میں بھی میڈیا کو آگاہ نہیں کرسکے انکا کہنا تھا کہ اب بات پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے ہی ہوگئی سپیلر قومی اسمبلی نے تو انتہا کردی ہے وفاقی دارالحکومت میں قائم خیبر کے پی کے ہاوس میں پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس جاری تھا اور پی ٹی آئی کےقائدین استعفے واپس لینے اور سپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات کے بارے میں بات جیت اور سیاسی بحث میں مصروف عمل تھے کہ اسی دوران سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے پی ٹی آئی کے 35 اراکین قومی اسمبلی کے استعفے منظور ہونے کی اطلاع دوران اجلاس ہی پارلیمانی پارٹی کے راہنماوں اور ممبران کو ملی تو پارلیمانی پارٹی نے اسی وقت پارلیمنٹ ہاوس جانے کا فیصلہ کیا شاہ محمود قریشی فواد چوہدری او عامر کیانی اور دیگر نے فوری پارلیمانی اجلاس خٹم کرتے ہوئے اعلان کیا کہ تمام ممبران لانگ مارچ کرتے ہوئے پیدل پارلیمنٹ ہاوس پہنچے گئے اور ر ہم سپیکر قومی اسمبلی سے براہ راست ملاقات کر کہ اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں گئے اس دوران پارٹی کے راہنماوں نے اپنے اپنے موبائل سے سپیکر قومی اسمبلی ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی اور سکریٹری قومی اسمبلی سے انکے موبائل پر رابطے شروع کیے تو انکی کال کسی نے اٹینڈ ہی نہیں کی جس پر فواد چویدری کی قیادت میں پی ٹی آئی کے راکین قومی اسمبلی اور پارلیمانی پارٹی کے راہنماوں نے پیدل پارلیمنٹ ہاوس کی جانب لانگ مارچ شروع کردیا سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر جو اپنی گاڑی سے پارلیمنٹ ہاوس جارہے تھے فواد چوہدری نے انکو کہا کہ آج لانگ مارچ کرتے ہوئے ہم پارلیمنٹ ہاوس جائینگے آپ بھی گارٰ سے نیطے آجائیں جس وہ بھی لانگ نمارچ کے قافلے میں شامل ہوگئے اسی دوران اٹک سے تعلق رکھنے والے رکن قومیا سمبلی میجر (ر) طاہر صادق بھی اپنےساتھیوں کے ہمراہ گاڑیوں سے اتر کر فواد چوہدری قیادت میں لانگ مارچ کا حصہ بن گئے اس دوران دیگر اراکین قومی بھی انکے ہمراہ ہوگے اور فوادچوہدری اسد قصیر پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی قیادت کرتے ہوئے پارلیمنٹ ہاوس پہنچے تو اسی دوران پارلیمنٹ ہاوس کی سیکورٹی نے تمام گیٹ بند کردیئے سابق سہپیکر قومی اسمبلی اسد قصٰر اور فواد چوہدری نے اسمبلی سیکورٹی سٹاف سے استفسار کیا کہ آپ نے کسی کےحکم پر ہامدے لیے گیٹ بند کیے ہیں تو سیکورٹی سٹاف خاموش کھرا رہا اور پی ٹی آئی کے ممبران اسمبلی کے کسی سوال کا جواب نہیں دیا پی ٹی آئی کی خواتین رکن اسمبلی بھی ساتھ ساتھ تھیں اور انھوں نے بھی سیکورٹی سٹاف کو پارلیمنٹ ہاوس کے دروزے کھولنے کا کہا مگر کسی نے انکی نہ سنی اس دوران شاہ محمود قریشی ،اسد عمر بھی وہاں پہنچ گئے اور انھوں نے پارلیمنٹ ہاوس کے دروازے بند کر پر شیدید احتجاج کیا اور سپیکر قومیا سمبلی کے اس روہیے پر انکو کڑی تنقید کا بھی نشانہ بنایا ہے انکا کہناتھا کہ سپیلر قومی اسمبکی اب غیر جانبدار نہیں رہے اور وہ اپنا اعتماد کھوچکے ہیں وہ قومی اسمبلی کے نہیں صرف ایک جماعت کے سپئیکر بن گئے ہیں پارلیمنٹ ہاوس کی اجنجب لانگ مارچ کے دوران فواد چوہدری بڑے خوشگوار موڈ میں تھے اور جب ان سے پوچھا گیا کہ پیدل چلتے ہوئے کیا محسوس کررہے ہیں تو انھوں نے کہا کہ بڑے عرصے بعد پیدل چلا ہوں اچھا لگ رہا ہے اور میرا خیال ہے کہ انسان کو پیدل بھی چلنا چایئے اسدقصٰر بھی پیدل چلتے ہوئے بڑے خوشگوار موڈ میں میڈیا سے بات جیت کررہے تھے اسد قصٰر کا کہنا تھا کہ میں تو دیر سے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں پہنمنا ہوں اور اجلاس میں کیافیصلے ہوئے ہیں مجھے انکے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے شاہ محمود قریشی اور اسد عمر اپنی اپنی گاڑیوں میں پارلیمنٹ ہاوس پہنچ کر فواد چوہدری کے لانگ مارچ میں شریک ہوئے ہیں پی ٹی آئی کے راہنما عامر دوگر کا کہنا تھا کہ ہم نے سپیکر قومی اسمبلی سے بار بار رابطے کی کوشس کی مگر ان سے رابطہ نہیں ہوسکا انکا کہنا تھا کہ سپیلر قومی اسمبلی ہمارے خود سے اسمبلی سے غائب ہوگئے اور جب ہم پارلیمنٹ ہاو سپہنطے تو پتلی گلی سے غائب تھے ہمیں تقوع نہیں تھی کی سپیکر ہمارے لیے اسمبلی کے دروازے بند کروادینگے اور انکا یہ اقادم غیر قانونی اور غیر آئنی تھا کیوں کی موجودہ اور سابق اراکین قومی اسلبلی کے لیے پارلیمنٹ ہاوس کے دروازے بند نہیں کیے جاسکتے سپیلر کا یہاقدام دراصل جمہوریت کے دروازے بند کر نے مترادف ہے س اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 64 کی شق ایک، قومی اسمبلی رولز اینڈ ریگولیشن 2007 کے مطابق پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کے استعفے منظور کیے گئے۔پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کے استعفوں کا اطلاق 11 اپریل 2022 سے ہوگا، اراکین کے استعفے منظور کیے جانے کے بعد مزید کارروائی کے لیے الیکشن کمیشن پاکستان کو ارسال کردیے گئے۔اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے استعفے منظوری کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 35 اراکین قومی اسمبلی کو ڈی نوٹیفائی کر دیا۔پی ٹی آئی نے گزشتہ سال اپریل میں پی ٹی آئی سربراہ عمران خان کی برطرفی کے بعد پارلیمنٹ کے ایوان زیریں سے اجتماعی استعفے دے دیے تھے، بعد ازاں اسپیکر قومی اسمبلی نے صرف 11 ارکان کے استعفے منظور کیے تھے اور کہا تھا کہ باقی ارکان اسمبلی کو تصدیق کے لیے انفرادی طور پر طلب کیا جائے گا جب کہ کراچی سے رکن اسمبلی شکور شاد نے اپنا استعفیٰ واپس لے لیا تھا۔واضح رہے کہ 17 جنوری کو بھی اسپیکر قومی اسمبلی نے تحریک انصاف کے 34 اراکین اسمبلی کے استعفے منظور کیے تھے، اس کے علاوہ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کا استعفیٰ بھی منظور کرلیا تھا۔اسپیکر کی جانب سے اب تک مجموعی طور پی ٹی آئی کے 79 اراکین اور شیخ رشید سمیت 80 ارکان قومی اسمبلی کے استعفے منظور کیے جاچکے ہیں۔جن اراکین اسمبلی کے استعفے آج منظور کیے گئے ان میں ڈاکٹر حیدر علی خان، سلیم رحمٰن، صاحبزادہ صبغت اللہ، محبوب شاہ، محمد بشیر خان، جنید اکبر، شیر اکبر خان، علی خان جدون، انجینئر عثمان خان ترکئی، مجاہد علی، ارباب عامر ایوب، شیر علی ارباب، شاہد احمد، گل داد خان، ساجد خان، محمد اقبال خان، عامر محمود کیانی، سید فیض الحسن، چوہدری شوکت علی بھاب شامل ہیں۔دیگر اراکین میں عمر اسلم خان، امجد علی خان، خرم شہزاد، فیض اللہ، ملک کرامت علی کھوکھر، سید فخر امام، ظہور حسین قریشی، ابراہیم خان، طاہر اقبال، اورنگزیب خان کھچی، مخدوم خسرو بختیار، عبدالمجید خان، عندلیب عباس، عاصمہ قدیر، ملیکہ علی بخاری اور منورہ بی بی بلوچ شامل ہیں۔اسپیکر قومی اسمبلی نے گزشتہ روز اسمبلی کا آج ہونے والا اجلاس بغیر کوئی وجہ بتائے ملتوی کردیا تھا۔اسپیکر کی جانب سے تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کے استعفے ایک ایسے موقع پر منظور کیے گئے عمران خان نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اگر پی ٹی آئی اسمبلی سے بدستور باہر رہی تو حکومت اور اپوزیشن لیڈر راجا ریاض نگراں حکومت کی تشکیل کریں گے، تاہم اس بیان کی ڈان ڈاٹ کام کو آزادانہ طور تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کے استعفے پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی نے 11 اپریل 2022 کو پارلیمنٹ میں اعتماد کے ووٹ کے ذریعے پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کو وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد اپنے استعفے جمع کرائے تھے۔اسمبلی سے بڑے پیمانے پر مستعفی ہونے کے فیصلے کا اعلان پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے 11 اپریل کو وزیر اعظم شہباز شریف کے انتخاب سے چند منٹ قبل اسمبلی کے فلور پر کیا تھا۔قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے اپنے خط میں کہا کہ اس نے پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کو 30 مئی کو طلب کیا اور انہیں 6 سے 10 جون تک ذاتی طور پر پیش ہونے اور استعفوں کی تصدیق کا وقت دیا تھا لیکن ان میں سے کوئی نہیں آیا۔اسپیکر نے جولائی میں پی ٹی آئی کے 11 اراکین کے استعفے قبول کرنے کی کوئی واضح وجہ بتائے بغیر ہی قومی اسمبلی کے استعفے منظور کر لیے تھے جن میں ڈاکٹر شیریں مزاری، علی محمد خان، فخر زمان خان اور فرخ حبیب بھی شامل تھے۔اس کے بعد تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی مسلسل مزید ارکان کے استعفوں کی منظوری کا مطالبہ کرتے رہے لیکن اسپیکر قومی اسمبلی اس بات پر اصرار کرتے رہے کہ اراکین اسمبلی ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر استعفوں کے ملاقات کریں۔اسپیکر نے پارٹی سے پہلے ہی پوچھا تھا کہ قومی اسمبلی کے رولز آف پروسیجر اینڈ کنڈکٹ آف بزنس 2007 کے رول 43 کے مطابق انہیں پارٹی کے چیئرمین عمران خان سمیت 127 اراکین قومی اسمبلی سے انفرادی طور پر ملاقات کرنی تھی، تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ آیا انہوں نے استعفے آزادانہ اور کسی دباؤ کے بغیر دیے ہیں یا نہیں۔گزشتہ ماہ قومی اسمبلی کے اسپیکر نے پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو خط لکھ کر ان سے کہا تھا کہ وہ پارٹی کے تمام اراکین قومی اسمبلی کو انفرادی طور پر استعفوں کی تصدیق کے لیے بھیجیں۔
قومی اسمبلی اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے قواعد و ضوابط کے مطابق پی ٹی آئی کے مزید 35 ارکان اسمبلی کے استعفے منظور کر لئے_ pic.twitter.com/QokSWmn9hk
— National Assembly of 🇵🇰 (@NAofPakistan) January 20, 2023














