اہم خبریں

الیکشن لڑنے کے لئے جو اہلیت بیان کی گئی اگر اس زمانے میں قائد اعظم ہوتے وہ بھی نااہل ہو جاتے،چیف جسٹس

اسلام آباد(اے بی این نیوز) سپریم کورٹ میں نااہلی کی مدت 5 سال یا تاحیات سے متعلق کیس کی سماعت ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 7 رکنی لارجر بینچ تاحیات نااہلی کیس کی سماعت کی ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن لڑنے کے لئے جو اہلیت بیان کی گئی ہےاگر اس زمانے میں قائد اعظم ہوتے وہ بھی نااہل ہو جاتے، کیا ججز کو گھر بھیجنے والا، آئین شکنی کرنے والا اچھے کردار کا ہو سکتا ہے؟ کیا ضیاءالحق کو سب معاف ہے؟، جسٹس منصور علی شاہ نے ریما رکس میں کہا عدالت کسی شخص کیخلاف ڈیکلریشن کیسے دے سکتی ہے؟ کوئی 20سال بعد سدھر کر عالم بن جاے تو کیا اسکا کردار اچھا ہوگا؟ قتل اور غداری جیسے سنگین جرم میں کچھ عرصے بعد الیکشن لڑ سکتے ہیں لیکن معمولی وجوہات کی بنیاد پرتاحیات نااہلی غیرمناسب نہیں لگتی؟کسی کو ایک بار سزا مل گئی تو بات ختم کیوں نہیں ہوجاتی؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ سزا کے بعد کبھی انتخابات نہ لڑسکے؟، تمام ایڈووکیٹ جنرل نے الیکشن ایکٹ ترمیم کی حمایت کردی،، اٹارنی جنرل کی تاحیات نااہلی کی تشریح کے فیصلے پر نظرثانی کی استدعا ، اٹارنی جنرل نے کہاکہ الیکشن ایکٹ کی تائید کروں گا کیونکہ یہ وفاق کا بنایا گیا قانون ہے۔ عدالت نے ویڈیو لنک پر وکلا کو دلائل سے روک دیا، نیز۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کی سزا 5 سال کرنے کی قانون سازی کو سپورٹ کر رہے ہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ تاحیات نااہلی کے فیصلے پر نظر ثانی ہونی چاہیے۔ انہوں نے آرٹیکل62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کی تشریح کے فیصلے کے دوبارہ جائزے کی استدعا کردی۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل!آپ کا مؤقف کیا ہے کہ الیکشن ایکٹ چلنا چاہیے یا سپریم کورٹ کے فیصلے؟، جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ عدالت سے درخواست ہے کہ تاحیات نااہلی کے فیصلے کا دوبارہ جائزہ لے۔ الیکشن ایکٹ کی تائید کروں گا کیوں کہ یہ وفاق کا بنایا گیا قانون ہے۔دوران سماعت میربادشاہ قیصرانی کےخلاف درخواست گزارکے وکیل ثاقب جیلانی نے بھی تاحیات نااہلی کی مخالفت کردی۔ وکیل نے کہا کہ میں نے 2018 میں درخواست دائرکی جب62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کا فیصلہ آیا۔ اب الیکشن ایکٹ میں سیکشن232 شامل ہوچکا اس لیے تاحیات نااہلی کی حد تک استدعا کی پیروی نہیں کررہا۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ الیکشن ایکٹ 2017 کو کیا کسی نے عدالت میں چیلنج کیا؟، جس پر درخواست گزار کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ الیکشن ایکٹ کو کبھی بھی کسی کے عدالت میں چیلنج نہیں کیا۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا کوئی ایسی صوبائی حکومت ہے جو الیکشن ایکٹ 2017 کی مخالفت کرے، جس پر صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز نے عدالت میں مؤقف دیا کہ تمام صوبائی حکومتیں الیکشن ایکٹ 2017 کو سپورٹ کر رہی ہیں۔اس موقع پراٹارنی جنرل نے آئین کا آرٹیکل 62،63 پھر کرسنادیا۔ اٹارنی جنرل نے رکن پارلیمنٹ بننے کے لیے اہلیت اور نااہلی کی تمام آئینی شرائط پڑھ کر سنادی۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کاغذات نامزدگی کے وقت سے 62 اور 63 دونوں شرائط دیکھی جاتی ہیں۔انٹری پوائنٹ پر دونوں آرٹیکل لاگو ہوتے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ کچھ شقیں تو حقائق سے متعلق ہیں وہ آسان ہیں۔کچھ شقیں مشکل ہیں جیسے اچھے کردار والی شق۔اسلامی تعلیمات کا اچھا علم رکھنا بھی ایک شق ہے۔پتا نہیں کتنے لوگ یہ ٹیسٹ پاس کرسکیں گے؟۔الیکشن ایکٹ کی یہ ترمیم چیلنج نہیں ہوئی۔جب ایک ترمیم موجود ہے تو ہم پرانے فیصلے کو چھیڑے بغیر اس کو مان لیتے ہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ تاثر ایسا ہو سکتا ہے کہ ایک قانون سے سپریم کورٹ فیصلے کو اوور رائٹ کیا گیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تو کیا اب ہم سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو دوبارہ دیکھ سکتے ہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ سمیع اللہ بلوچ کیس میں عدالت نے ایک نقطے کو نظر انداز کیا۔ عدالت نے کہا کرمنل کیس میں بندا سزا کے بعد جیل بھی جاتا ہے۔اس لیے نااہلی کم ہے۔عدالت نے یہ نہیں دیکھا ڈیکلیریشن 62 ون ایف اور کرمنل کیس دونوں میں ان فیلڈ رہتا ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم تو گناہ گارہیں اور اللہ سے معافی مانگتے ہیں۔ آرٹیکل62 میں نااہلی کی مدت درج نہیں بلکہ یہ عدالت نے دی۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ جب تک عدالتی فیصلے موجود ہیں تاحیات نااہلی کی ڈکلیئریشن اپنی جگہ قائم ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ الیکشن ایکٹ بھی تو لاگو ہوچکا اور اس کو چیلنج بھی نہیں کیا گیا۔ جسٹس منصور نے ریمارکس دیے کہ سوال یہ ہےکہ کیا ذیلی آئینی قانون سازی سے آئین میں ردوبدل ممکن ہے؟۔چیف جسٹس نے کہا کہ نااہلی کی مدت کا تعین آئین میں نہیں، اس خلا کو عدالتوں نے پُر کیا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے اس موقع پر اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ سوال یہ ہے کہ کیا الیکشن ایکٹ میں دی گئی نااہلی کی مدت آئین سے زیادہ اہم تصور ہو گی؟ آرٹیکل 63 کی تشریح کا معاملہ ہے، سنگین غداری کرے تو الیکشن لڑ سکتا ہے۔ سول کورٹ سے معمولی جرائم میں سزا یافتہ الیکشن نہیں لڑ سکتا۔ کیا سپریم کورٹ کے فیصلے کوختم کرنے کے لیے آئین میں ترمیم کرنی پڑے گی؟۔ کیا آئین میں جولکھا ہے اسے قانون سازی سے تبدیل کیا جاسکتا ہے؟جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل62 ون ایف میں نااہلی کی میعاد کا ذکرنہیں ہے، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا جب تک عدالتی فیصلہ موجود ہے نااہلی تاحیات رہے گی۔ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ قتل اورملک سے غداری جیسے سنگین جرم میں آپ کچھ عرصے بعد انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں۔ انہوں نے استفسار کیا کہ معمولی وجوہات کی بنیاد پرتاحیات نااہلی غیرمناسب نہیں لگتی؟۔ عدالت کسی شخص کے خلاف ڈکلیئریشن کیسے دے سکتی ہے؟ جسٹس محمد علی مظہر نے پوچھا کہ کیا سپریم کورٹ نے ڈکلئیریشن ازخود اختیار استعمال کرکے دی؟چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل62 ون جی اور آرٹیکل 63 ون جی کی زبان ایک سی ہے۔ آرٹیکل63 ون جی کے تحت ملکی سالمیت اورنظریے کی خلاف ورزی کرنے والے کی نااہلی 5 سال ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگرایک شخص کےخلاف مقدمہ ہوتو وہ 2 سال سزا کاٹ کر واپس آسکتا ہے۔ مگرایک شخص کےخلاف مقدمہ نہ ہوبلکہ ڈکلیئریشن آجائے تو وہ دوبارہ آہی نہیں سکتا۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا کوئی شخص حلفیہ طورپرکہہ سکتا ہے کہ وہ اچھے کردارکا مالک ہے؟ اگر 2002ء میں قائد اعظم ہوتے تو وہ بھی نااہل ہوتے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ جب غیر منتخب لوگ قوانین بنائیں گے تو ایسے ہی ہوگا۔اس موقع پر جہانگیرترین کے وکیل مخدوم علی خان عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ آرٹیکل 62ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت 5 سال مقرر کرنے کے حق میں ہوں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جس فوجی آمر نے 1985 میں آئین کو روندا ، اسی نے آرٹیکل 62اور 63 کو آئین میں شامل کیا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سوال یہ بھی ہے کہ اٹھارہویں ترمیم میں آرٹیکل 62اور 63 پر مہر لگائی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایک مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کیسے آئین میں اہلیت کا معیار مقرر کرسکتا ہے؟۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ سپریم کورٹ صرف صوبوں کے مابین تنازعات پر ڈکلریٹو فیصلہ دے سکتی ہے۔درخواست گزار ثنا اللہ بلوچ نے کہا کہ 50 سال سے قانون میں اراکین کی اہلیت کا معیار طے ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پھر اس سے پہلے کوئی 62 ون ایف کے تحت نااہل کیوں نہ ہوا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ جھوٹ بولنے پر سزا تاحیات ہے۔ قتل یا غداری پر سزا محدود ہے اور وہ الیکشن بھی لڑسکتا ہے۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے۔عدالت عظمیٰ کے لارجر بینچ میں چیف جسٹس آف پاکستان کے علاوہ جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بھی شامل ہیں۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے عدالتی فیصلے اور انتخابی ایکٹ میں تضاد پر نوٹس لیا تھا، جس کے بعد کیس آج سماعت کے لیے مقرر تھا اور کیس کے بارے میں اخبارات میں عوامی اشتہار بھی جاری کیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں