اسلام آباد (اے بی این نیوز )قومی مذاکراتی کمیٹی کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا، جسے فواد چودھری نے میڈیا کے سامنے پڑھ کر سنایا۔ اعلامیے میں ملک کو درپیش سیاسی بحران کے حل کیلئے قومی مکالمے کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے اعتماد سازی اور مذاکرات کے تسلسل پر زور دیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق صدر آصف علی زرداری، نواز شریف اور وزیراعظم پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی قومی کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ سیاسی ڈیڈلاک ختم کرنے کیلئے سنجیدہ اور بامقصد بات چیت کا آغاز ہو سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں فوری طور پر اپوزیشن لیڈرز کی تعیناتی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے تاکہ پارلیمانی نظام کو مکمل اور فعال بنایا جا سکے۔
قومی مذاکراتی کمیٹی کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سیاسی کارکنان اور رہنماؤں کی رہائی سے حکومت پر مذاکرات کا اعتماد بڑھے گا۔ کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ اپوزیشن کو موقع دیا جائے کہ وہ اپنے رہنماؤں سے ملاقات کر سکے، جبکہ اعتماد سازی کیلئے ایک الگ کمیٹی بھی تشکیل دی جائے گی۔
اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی جائے اور سیاسی عمل پر عائد پابندیاں فوری طور پر ختم کی جائیں۔ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے مطابق سیاسی افراد پر بنائے گئے مقدمات ختم کر کے انہیں رہا کیا جانا چاہیے تاکہ مفاہمت کی فضا قائم ہو سکے۔
اعلامیے میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں فریق فوج کو سیاست میں گھسیٹنے سے گریز کریں اور تمام معاملات کو سیاسی فورمز پر حل کیا جائے۔ نیشنل ڈائیلاگ کے تحت بات چیت کا عمل جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ حکومت اور اپوزیشن اپنی اپنی مذاکراتی کمیٹیاں تشکیل دیں گی تاکہ باضابطہ اور مسلسل مذاکرات ممکن ہو سکیں۔ اجلاس کے اختتام پر اعلامیے کے مطابق شہدا کے درجات کی بلندی کیلئے دعا بھی کی گئی۔قومی مذاکراتی کمیٹی کا یہ اعلامیہ موجودہ سیاسی صورتحال میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے سیاسی استحکام، آئینی بالادستی اور جمہوری عمل کی بحالی کی امید کی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں :نیا ریکارڈ قائم















