کراچی (نیوز ڈیسک) پاکستان اسٹاک مارکیٹ منگل کو 41ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد عبور کرتے ہوئے پرافٹ ٹیکنگ کا شکار ہو گئی جس کی وجہ سے مارکیٹ میں مندی کے باد ل چھا گئے ،کے ایس ای100انڈیکس 180سے زائد پوائنٹس گھٹ گیا جس کی وجہ سے انڈیکس40800پوائنٹس سے گھٹ کر40600پوائنٹس کی پست سطح پر بند ہوا ۔کاروباری مندی کی وجہ سے مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے 34ارب روپے سے زائد ڈوب گئے جبکہ 57.65فیصد حصص کی قیمتیں بھی گھٹ گئیں ۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں منگل کو کاروبار کا آغاز مثبت ہوا ،پیٹرولیم ،ٹیلی کام ،گیس ،سیمنٹ ،فارما سوئیٹیکل اور ٹیکنالوجی سیکٹر میں خریداری سے مارکیٹ41ہزار پوانٹس کی نفسیاتی حد عبور کر گئی تھی تاہم رواں سال نئے بجٹ ،متوقع الیکشن اور سیلاب زدگان کو درپیش مشکلات کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیوں سے منافع کی خاطر فروخت کے دباؤ سے انڈیکس کی الٹی گنتی شروع ہو گئی ۔اسٹاک ماہرین کے مطابق نیا کلینڈر سال پاکستانی معیشت کیلئے اچھا ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ آئی ایم ایف سے قرض ملنے کی امید ہے جبکہ دوسری جانب سیلاب زدگان کیلئے ہونیوالی ڈونر کانفرنس میں14ارب ڈالر ملنے کے امکان اور قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں معیشت پر گفتگو کے بہتر نتائج برآمد ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے رواں سال کے دوران مارکیٹ49ہزار پوائنٹس کی سطح کو بھی چھو سکتی ہے تاہم کلینڈر سال کے دوسرے دن منگل کو کے ایس ای100انڈیکس میں185.26پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی جس سے انڈیکس40815.90پوائنٹس سے گھٹ ر40630.64پوائنٹس پر آگیا۔مارکیٹ میں منگل کو7ارب روپے مالیت کے 20کروڑ10لاکھ58ہزار حصص کے سودے ہوئے جبکہ پیر کو7ارب روپے مالیت کے24کروڑ21لاکھ73ہزار حصص کے سودے ہوئے تھے ۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گذشتہ روز مجموعی طور پر 333کمپنیوں کا کاروبار ہوا جس میں سے113کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ ،192میں کمی اور28کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام رہا ۔













