اہم خبریں

پاکستان میں اسمارٹ موبائل فون کی قیمتوں میں زبردست اضافہ

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) پاکستان کی اسمارٹ فون مارکیٹ میں قیمتوں کا زلزلہ آ گیا ہے۔ معروف عالمی برانڈ سام سنگ نے بغیر کسی پیشگی عوامی اعلان کے اپنے پرچم بردار ماڈلز کی قیمتیں راتوں رات بڑھا دیں، جس کے بعد مارکیٹ میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

ریٹیلرز کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق اچانک کیا گیا اور صبح دکانیں کھلنے پر صارفین کو اپ ڈیٹ شدہ ریٹس کا سامنا کرنا پڑا۔ بتایا جا رہا ہے کہ مختلف ماڈلز پر اضافہ تقریباً 2 سے 6 فیصد تک کیا گیا ہے، تاہم پہلے سے مہنگائی کے دباؤ میں پسے صارفین کے لیے یہ اضافہ کہیں زیادہ محسوس ہو رہا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان میں موبائل سبسکرپشنز کی تعداد 20 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے اور اندازاً 7 سے 8 کروڑ افراد اسمارٹ فون استعمال کر رہے ہیں۔ ملک کی نوجوان آبادی کی بڑی تعداد آن لائن تعلیم، فری لانسنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ای کامرس اور سوشل میڈیا کاروبار کے لیے اسمارٹ فون پر انحصار کرتی ہے، اس لیے قیمتوں میں اضافہ براہِ راست ان کے روزگار اور معاشی مواقع پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

پی ٹی اے کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس پاکستان میں 3 کروڑ سے زائد موبائل فون مقامی طور پر اسمبل کیے گئے جبکہ اوسطاً ہر ماہ 20 سے 25 لاکھ فون ملک میں تیار یا اسمبل ہو رہے ہیں، جن میں اسمارٹ فونز کی بڑی تعداد شامل ہے۔ پاکستان میں اس وقت Infinix، Tecno، Xiaomi، Vivo، Oppo، Samsung، itel اور VGO Tel سمیت متعدد برانڈز مقامی سطح پر اسمبلی کے ذریعے اپنی مصنوعات مارکیٹ میں لا رہے ہیں، تاہم اہم پرزہ جات خصوصاً چپ سیٹس بیرون ملک سے درآمد کیے جاتے ہیں۔

مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں یہ اضافہ ایک ایسے مرحلے پر کیا گیا ہے جب موبائل فون کا کاروبار پہلے ہی سست روی کا شکار تھا۔ فروخت میں کمی کے باعث کئی کمپنیاں اور ڈسٹری بیوٹرز اپنی سیلز برقرار رکھنے کے لیے قسطوں کی اسکیموں کی طرف چلے گئے تھے اور بعض برانڈز نے ایک سال تک کی اقساط پر فون فراہم کرنا شروع کر دیے تھے۔ ریٹیلرز کے مطابق خریدار نقد ادائیگی کے بجائے اقساط کو ترجیح دے رہے تھے کیونکہ یکمشت رقم ادا کرنا متوسط طبقے کے لیے مشکل ہو چکا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اب جب قیمتیں مزید بڑھ جائیں گی تو اقساط کی ماہانہ رقم بھی بڑھ جائے گی، جس سے طلب میں مزید کمی آ سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف سیلز کم ہوں گی بلکہ مقامی اسمبلنگ پلانٹس اور ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک پر بھی دباؤ بڑھے گا۔ کاروباری حلقوں کا خیال ہے کہ اگر فروخت میں مزید کمی آئی تو اس شعبے میں نئی سرمایہ کاری متاثر ہو سکتی ہے اور کچھ منصوبے سست یا مؤخر بھی ہو سکتے ہیں۔

فلیئر میگزین سے گفتگو کرتے ہوئے چینی موبائل کمپنیوں کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ان کی نئی کھیپ مہنگی پڑ رہی ہے اور قیمتوں میں اضافے کی تیاری جاری ہے۔ ان کے مطابق چین سے آنے والا اسٹاک پہلے کے مقابلے میں زیادہ لاگت پر دستیاب ہو رہا ہے کیونکہ چپ سیٹس اور دیگر اہم اجزاء کی قیمتیں بڑھ چکی ہیں، اس لیے نئی شپمنٹ پر پرانی قیمت برقرار رکھنا ممکن نہیں رہا۔ مارکیٹ حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر دیگر برانڈز نے بھی باضابطہ طور پر قیمتیں بڑھا دیں تو پورا سیکٹر اس کا اثر محسوس کرے گا۔

دوسری جانب ماہرین یہ خدشہ بھی ظاہر کر رہے ہیں کہ اگر برانڈ نیو فونز کی قیمتیں مسلسل بڑھتی رہیں تو بیرون ملک سے استعمال شدہ موبائل فونز کی آمد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ایئرپورٹس کے ذریعے ذاتی سامان میں فون لانے، نان کسٹم پیڈ ڈیوائسز اور غیر رسمی ذرائع سے درآمد کا رجحان بڑھنے کا امکان ہے جس سے سرکاری ریونیو اور مقامی صنعت دونوں متاثر ہو سکتے ہیں۔

کاروباری حلقوں کے مطابق پاکستان کی معیشت پہلے ہی دباؤ میں ہے اور ایسے میں اسمارٹ فون جیسی بنیادی ڈیجیٹل ضرورت کا مہنگا ہونا صارفین کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاروں کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔ اگر قیمتوں کے اس زلزلے کے بعد فروخت مزید سست پڑتی ہے تو نہ صرف مارکیٹ کا حجم سکڑ سکتا ہے بلکہ موبائل فون انڈسٹری میں مستقبل کی سرمایہ کاری پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اب نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ اضافہ ایک وقتی ردعمل ہے یا آنے والے مہینوں میں مزید جھٹکے باقی ہیں۔
مزیدپڑھیں: سعودی عرب میں عام تعطیل کا اعلان

متعلقہ خبریں