اسلام آباد(اے بی این نیوز)رمضان آتے ہی ایک ملک میں سرکاری سطح پر گھڑیاں ایک گھنٹہ پیچھے کر دی جاتی ہیں جس سے عوام کو کئی فوائد ہوتے ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق رمضان المبارک کی آمد ہوتے ہی مراکش میں حکومت کی جانب سے ملک بھر میں گھڑیاں ایک گھنٹہ پیچھے کر دی جاتی ہیں، جو اختتام رمضان پر دوبارہ ایک گھنٹہ آگے کر دی جاتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مراکشی حکومت روزہ رکھنے میں آسانی کے لیے گرینچ ٹائم پر واپس آنے کا فیصلہ کرتی ہے، جبکہ عوام اس ”کم شدہ گھڑی” کو سال بھر کھوئے ہوئے حیاتیاتی توازن کی بحالی کا موقع سمجھتے ہیں۔
ہر سال حکومت کے اس اقدام سے فیس بک اور ایکس (ٹوئٹر) جیسے پلیٹ فارمز پر نفسیاتی اور جسمانی سکون کے اجتماعی احساس پر بحث چھڑ جاتی ہے اور بعض لوگ اس لمحے کو ”سماجی عرس” قرار دیتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق مراکشی اس بات پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ کام یا اسکول قدرتی روشنی کے ساتھ جا سکتے ہیں۔
دوسری جانب طبیب اور صحت عامہ کی پالیسیوں کے محقق ڈاکٹر طیب حمضی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں کہا کہ وقت کی کسی بھی تبدیلی، چاہے گرمیوں کے اوقات میں جانا ہو یا سال میں دو بار سردیوں کے اوقات پر واپس آنا، نیند، روزمرہ توانائی اور مزاج پر واضح اثر ڈالتی ہے۔
رمضان میں گھڑیاں ایک گھنٹہ پیچھے کرنے پر ان کا کہنا تھا کہ اس مہینے میں عارضی طور پر سردیوں کے وقت پر واپسی کے باعث بہت سے لوگوں کو محسوس ہوتا ہے کہ جسم اپنا قدرتی ردھم دوبارہ پا لیتا ہے، جس کے مثبت اثرات مزاج اور ذہنی صحت پر پڑتے ہیں اور کئی ماہ تک گرمیوں کے وقت سے مطابقت کے بعد سکون اور اطمینان کا احساس ملتا ہے۔
مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا کے علاقوں باجوڑ اور وزیر ستان میں کل پہلے روزے کا اعلان















