اسلام آباد(اے بی این نیوز)) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے سوال کیا کہ آیا موبائل فونز پر عائد ٹیکس کم کیے جا رہے ہیں یا نہیں۔ تاہم چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی ( پی ٹی اے) نے وضاحت کی کہ پی ٹی اے موبائل فونز پر کوئی ٹیکس وصول نہیں کرتا۔
انہوں نے کہا کہ بطور چیئرمین پی ٹی اے بھی انہیں یہ معلوم نہیں کہ ہر موبائل فون پر کتنا ٹیکس عائد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ قومی اسمبلی کے ایک رکن کی درخواست پر نوید قمر کی سربراہی میں ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی، جس میں رکنِ قومی اسمبلی نے دعویٰ کیا تھا کہ موبائل فونز پر ٹیکس فون کی قیمت کا 66 فیصد تک ہوتا ہے۔
چیئرمین پی ٹی اے کے مطابق یہ ذیلی کمیٹی موبائل فونز پر ٹیکس میں کمی کے حوالے سے کام کر رہی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی اے اس کمیٹی کا حصہ نہیں ہے۔
پی ٹی اے کو 2 ارب روپے موصول ایک حالیہ اجلاس کے دوران چیئرمین پی ٹی اے نے انکشاف کیا کہ اتھارٹی کو گزشتہ ماہ ایک کمپنی کی جانب سے 2 ارب روپے موصول ہوئے، جو فوری طور پر وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کو منتقل کر دیے گئے۔
یونیورسل سروس فنڈ (یو ایس ایف) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ فنڈ میں 60 ارب روپے جمع ہو چکے تھے، جو سال 2013-14 میں وصول کیے گئے تھے لیکن خرچ نہیں ہو سکے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں وفاقی حکومت نے یہ رقم یو ایس ایف سے لے لی، جبکہ ان کے مطابق حکومت اب بھی فنڈ کے 42 ارب روپے کی مقروض ہے۔
مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ بتائیں افغانستان ملوث نہیں تو دہشتگردی میں کون ملوث ہے؟ فیصل کریم کنڈی














