اہم خبریں

پاکستانی کرنسی کی قدر میں استحکام، ڈالر سستا ہوگیا

کراچی(نیوزڈیسک) انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔گزشتہ روز انٹربینک میں کاروبار کے دوران ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہا اور کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قدر 98 پیسے مہنگا ہو کر 276.28 روپے رہی۔روز کاروبار کے آغاز پر انٹربینک میں ڈالر ایک روپیہ 28 پیسے سستا ہوکر 275 روپےکا ہوگیا۔پہلی بار ’گرے مارکیٹ‘ اور اوپن مارکیٹ میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کے ریٹ میں فرق نمایاں طور پر کم ہو گیا جس کے باعث ڈالر کی افغانستان ہونے والی اسمگلنگ میں کمی کا امکان ہے۔ گرے مارکیٹ میں ڈالر کا ریٹ 273 روپے رہا جب کہ اوپن مارکیٹ میں 282 روپے میں فروخت ہوا، صورتحال میں یہ تبدیلی ملک میں مارکیٹ پر مبنی شرح مبادلہ کے تعین کے بعد سامنے آئی ہے۔انٹربینک میں ڈالر کی قیمت گزشتہ روز کے 275روپے 30 پیسے کے ریٹ میں 98 پیسے اضافے کے ساتھ 276 روپے 28 پیسے ہوگئی۔حکومت اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان جاری مذاکرات پر انٹربینک مارکیٹ کی جانب سے کوئی رد عمل ظاہر نہیں ہو رہا جب کہ کرنسی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ انہیں بینکوں سے کچھ لیکویڈیٹی مل رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ڈالر کی افغانستان اسمگلنگ جاری ہے جو پاکستان کے لیے حقیقی مسئلہ ہے جسے پہلے ہی ڈالر کی شدید قلت کا سامنا ہے۔کچھ کرنسی ڈیلرز کا کہنا تھا کہ افغانستان کا زیادہ تر انحصار پاکستان سے اسمگل ہونے والے ڈالرز پر ہے جب کہ اس کی اپنی کوئی برآمدات نہیں ہیں، ان کا کہنا تھا کہ اب ڈالر کی اسمگلنگ میں اتنا فائدہ اور کشش نہیں رہی لیکن یہ اب بھی جاری ہے۔ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان نے کہا کہ اگست 2021 میں طالبان کی جانب سے کابل کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے ڈالر کی اسمگلنگ جاری ہے، ڈالر کی بڑے پیمانے پر اسمگلنگ اور طالبان کی جانب سے اپنے لوگوں کو پاکستانی روپے سے چھٹکارا پانے کی ہدایات کے نتیجے میں ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوا۔

متعلقہ خبریں