اسلام آباد( اے بی این نیوز)حکومت نے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں اب تک کوئی کمی نا کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ ایک روپے 90 پیسے فی یونٹ منفی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ شرح سود اور شرح تبادلہ میں اتار چڑھاؤ کے مطابق نرخ متعین کریگی، جبکہ پیٹرولیم لیوی میں اضافے کے خلاف ایک روپیہ 71 پیسے فی یونٹ ریلیف آئندہ مالی سال تک جاری رہ سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت قائم تمام آزاد پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کو حکومتی فریم ورک کا تحفظ حاصل ہے، لیکن ان کے قرضوں کی ری پروفائلنگ اور درآمد شدہ کوئلے سے چلنے والے پلانٹس کو مقامی کوئلے میں تبدیل کرنے کے لئے بات چیت ٹریک پر ہے، اس عمل کے ذریعے جو بھی فائدہ ملے گا وہ مستقبل میں صارفین کو منتقل کیا جائیگا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور دیگر ترقیاتی شراکت دار قیمتوں میں کمی کی کبھی حمایت نہیں کرتے، اگر یہ آئی پی پیز کے ساتھ دوبارہ مذاکرات تک محدود ہوتا، انہیں بجلی کے شعبے میں اصلاحات پر بار بار مشاورت کے ذریعے قائل کیا گیا، جس سے انہیں توانائی کے شعبے کی پائیداری اور اگلے 3 سے 4 سال میں قیمتوں میں کمی کے دباؤ کے بارے میں اعتماد ملا۔
مزید پڑھیں: کوٹری اسٹیشن کے قریب علامہ اقبال ایکسپریس حادثے کا شکار