اہم خبریں

قرضوں کا حجم 130 ارب ڈالر سے تجاوز، روپے کی قدر خطرناک حد تک گرگئی

لاہور(نیوزڈیسک) پاکستان میں معاشی بحران شدت اختیار کرگیا ۔ پاکستانی کرنسی کی قدر خطرناک حد تک گرچکی ہے ۔سابق وفاقی وزیر خزانہ حفیظ پاشا کے تہلکہ خیز انکشاف سامنے آگئے ۔ سابق وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ اس وقت روپے کی اصل قدر 295 روپے ہے جو حکومت نے مصنوعی طریقے سے روک رکھی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت روپے کی اصل قدر 295 روپے ہے جو حکومت نے مصنوعی طریقے سے روک رکھی ہے، ڈالر کو مصنوعی طریقے سے روک کر معیشت تباہ کی جا رہی ہے، اس اقدام سے ترسیلات زر اور برآمدات متاثر ہو رہی ہیں۔حفیظ پاشا کا کہنا تھا کہ 80 ہزار جاگیردار 900 ارب کی آمدن پر صرف 3 ارب ٹیکس دیتے ہیں، سیاست دانوں کو میثاق معیشت پر اکٹھا ہونا ہوگا۔لاہور میں تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے حفیظ پاشا نے کہا کہ حالات خراب ہیں، بڑے اقدامات نہ اٹھائے تو نظام نہیں چل سکے گا، اصل خرابی پچھلے سات آٹھ سال میں سامنے آئی جب قرضوں کا حجم 130 ارب ڈالر پر چلاگیا۔افسوس بڑے جاگیردار صرف تین ارب ٹیکس دیتے ہیں جبکہ غریب کھانے پینے کی اشیاء پر 120 ارب ٹیکس دیتے ہیں، ایسے بے انصاف معاشرے چل ہی نہیں سکتے۔۔سابق وزیر نے مزید کہا کہ ہم نے درآمدات بڑھانے کے لیے ڈیوٹیوں کی شرح خطرناک حدتک کمی کی،

متعلقہ خبریں