پاکستانی بھکاریوں کیلئے بری خبر، سعودی عرب نے گداگری غیرقانونی اور قابل سزا جرم قراردیدی

جدہ(نیوز ڈیسک) دنیا بھر میں جہاں گدا گری کو برا مانا جاتا ہے وہاں گداگروں کی بھی بھرمار ہے ۔ سعودی عرب میں بھیک مانگنا پہلے سے غیرقانونی ہے لیکن دیگر ممالک سے جانیوالے بھکاریوں کے گروہ حج اور عمرہ سیزن میں بڑی تعداد میں جدہ اور مضافات میں پہنچ جاتے ہیں ۔ دیگر ممالک سے جانیوالے بھکاریوں میں پاکستان بھی سرفہرست ہے جس کے شہری حج سیزن میں سعودی عرب پہنچ جاتے ہیں اور منظم طریقے سے بھیک مانگ کر وطن واپس پہنچ جاتے ہیں ۔ اب سعودی عرب کے پبلک پراسکیوشن نے مملکت میں بھیک مانگنے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے قابل سزا جرم قرار دیا ہے۔

پبلک پراسیکیوشن کا کہنا ہے کہ گداگری میں ملوث غیرملکیوں کو سزا پوری ہونے کے بعد ملک بدر کردیا جائے گا اور انہیں دوبارہ حج اور عمرہ کے سوا مملکت میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ البتہ ایسی خواتین جنہوں نے سعودی شہریوں سے شادی کی ہو یا مرد جنہوں نے سعودی خواتین سے شادی کی ہو یا اور ان کی اودلاد کو ملک بدر نہیں کیا جائے گا البتہ وہ باقی سزا پوری کریں گے۔

سعودی پبلک پراسیکیوشن کا کہنا ہے کہ گداگری ایک سماجی اور اقتصادی جرم ہی نہیں بلکہ اس میں سلامتی اور صحت کے خطرات بھی مضمر ہیں۔پبلک پراسیکیوشن نے “ٹویٹر” پر اپنے آفیشل اکاؤنٹ کے ذریعے مزید کہا کہ گداگری کرنے، بھکاریوں کا انتظام کرنے، دوسروں کواس مکروہ عمل پر اکسانے، اس کی حمایت کرنے یا اس کی مدد کرنے اور بھیک مانگنے میں کسی بھی طریقے سے بھکاریوں کی معاونت کرنےکو بھی جرم تصور کیا گیا ہے اور اس پر کم سے کم ایک سال قید اور ایک لاکھ ریال جرمانہ کی سزا دی جائے گی۔