اسلام آباد ( اے بی این نیوز )عام انتخابات کیس میں وفاق اور الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری ،، درخواست گزاروں کی لارجر بنچ نہ بنانے کی استدعا بھی منظور ۔ ، سپریم کورٹ نے حکمنا مے میں کہا ہے کہ درخواست گزار مردم شماری کے عمل، اس کی منظوری اور حلقہ بندیوں کے عمل سے مطمئن نہیں،، یہ سارا عمل انتخابات کی تاخیر کا بہانہ ہے،، درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ آج الیکشن کا فیصلہ ہو تو 90 دنوں میں ا لیکشن ممکن نہیں ، انتخابات سے متعلق درخواستوں میں کئی مختلف استدعا کی گئیں،درخواستوں میں صدر پاکستان کو بذریعہ سیکرٹری فریق بنایا گیا،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ عام طور پر صدر مملکت صدارتی ریفرنس بھیجتے رہتے ہیں،صدر مملکت کو آئینی استثنیٰ حاصل ہے۔جسٹس اطہرمن اللہ نے ریما رکس میں کہا آپ اس مردم شماری میں پڑیں گے تو الیکشن مزید التواء کا شکار ہوسکتے ہیں ۔ جو بھی مردم شماری میں تاخیر کے ذمہ دار ہیں انہیں ذمہ دار ٹھہرایا جائے، سماعت 2 نومبر تک ملتوی















