اسلام آباد (نیوزڈیسک)عام انتخابات 2023نئی مردم شماری پر ہوں گے، وزیراعظم کے اس بیان سے انتخابات میں تاخیر کے بادل منڈلانے لگے ۔اس حوالے سے قانونی ماہرین نے کہا کہ الیکشن نئی مردم شماری کی مشترکہ مفادات کونسل کی منظوری اور نوٹیفکیشن کے بعد ہو سکتے ہیں۔وزیراعظم شہبازشریف کے بیان کے بعد کئی سوالات سامنے آئے ہیں، کیا حکومت نئی مردم شماری کا ڈیٹا ریلیز کرنے کے لیے تیار ہے، کیا صوبے نئی مردم شماری کو مانیں گے یا اعتراضات کا انبار لگے گا، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نئی مردم شماری کے حق میں ووٹ نہ دینے کا اعلان پہلے ہی کر چکے ہیں جبکہ وزیر دفاع خواجہ آصف بھی لاہور کی آبادی کوکم گنے جانے کا اعتراض کر چکے ہیں۔ جماعت اسلامی (جے آئی)اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کراچی اور حیدرآباد کی مردم شماری پر اعتراض اٹھا چکی ہیں جبکہ الیکشن کمیشن کو نئی حلقہ بندیاں کرنے میں بھی وقت درکار ہے۔















