اسلام آباد(اے بی این نیوز)سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے اقتصادی سروے کی اشاعت پر ردعمل دیتےہوئے کہا کہ وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی پریس کانفرنس میں ہم امید کر رہے تھےکہ اسحاق ڈار شہریوں پر تاریخی مہنگائی کا بوجھ ڈالنے اور معیشت کو مفلوج کرنے پر قوم سے معافی مانگ کر اپنا استعفیٰ پیش کریں گے،رواں مالی سال کا اقتصادی سروے معیشت کی مایوس کن تصویر پیش کرتا ہے، پی ڈی ایم حکومت میں گزشتہ دو سالوں کی 6 فیصد شرح نمو 0.3 فیصد تک آنے کے بعد معاشی سرگرمیاں رک گئی ہیں، پی ڈی ایم حکومت کی ناکامی ملک میں بد ترین بحران کا باعث بنی ہے، اس سال 80 لاکھ افراد بے روزگار ہو چکے ہیں،اسحاق ڈار اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے ملکی معیشت پر بات کرنے کی بجائے ارد گرد کی کہانیاں سنانا پسند کرتے ہیں،اسحاق ڈار برائے نام وزیر خزانہ ہیں جو جی ڈی پی میں فرق نہیں کر سکتے جس کا حساب قوت خرید کی برابری کی بنیاد پر کیا جاتا ہے،آئی ایم ایف نے پی ڈی ایم حکومت کے ساتھ معاہدہ کرنے سے انکار کر دیا ہے،عالمی منڈیوں نے پاکستان کے لیے اپنے دروازے بند کر دیئے ہیں،اسحاق ڈار میں مارکیٹ اور معاشی پالیسی کی بنیادی سمجھ کی مکمل کمی ہے، یہاں تک کہ ان کی اپنی پارٹی کے لوگ بھی اسحاق ڈار کی کارکردگی پر سوال اٹھا رہے ہیں، اسحاق ڈار میں مارکیٹ اور معاشی پالیسی کی بنیادی سمجھ کی مکمل کمی ہے، اسحاق ڈارپالیسی نے معیشت کو ڈیفالٹ کے دہانے پر پہنچا دیا ہے،اسٹیٹ بینک کے ذخائر اب صرف 3.9 ارب ڈالر کی سطح پر ہیں، جو ایک ماہ کی درآمدات کے لیے بھی کافی نہیں ہیں،نیشنل اکائونٹس کمیٹی نے ایک بار پھر پی ٹی آئی حکومت کی مضبوط معاشی کارکردگی کی تصدیق کردی، پی ٹی آئی حکومت کے آخری دو سالوں میں جی ڈی پی شرح نمو اوسطاً 6 فیصد رہی،۔















