اہم خبریں

انتخابات نہ کرانے پر توہین عدالت بنتی ہے،جسٹس (ر)وجیہ الدین

اسلام آباد (نیوزڈیسک)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطاء بندیال کی جانب سے عمران خان کو ”ویلکم“ کہے جانے پر سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین نے کہاہے کہ نادانستہ طور پر یہ کام ہوا ہے، یہ کوئی بڑی بات نہیں، دیکھنا یہ ہے کہ جو آرڈر پاس ہوئے وہ صحیح ہیں یا غلط،نجی ٹی وی سے بات چیت میں جسٹس (ر) وجیہہ الدین نے کہا کہ ایک آدمی جو ملک کا سابق وزیراعظم ہے اور اس وقت ملک کا سب سے مقبول ترین شخص ہے، اس نے جو بھی جرائم کئے ہوں تو ضمانت اس کا حق ہے، جب تک آپ کسی کیس میں مجرم ثابت نہیں ہوتے تب تک آپ بے گناہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان دو دنوں کی کہانی میں کونسی غلط بات ہوئی ہے؟ غلط بات تو یہ ہوئی کہ جس طریقے سے آپ نے اس کو اٹھایا جیسے کہ وہ ایک دہشتگرد ہو۔ غلط بات تو یہ ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس کی ضمانت مسترد کی اور گرفتاری کو جائز قرار دیا۔انتخابات نہ کرائے جانے پر وزیراعظم اور کابینہ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہونے پر ان کا کہنا تھا کہ توہین عدالت تو بالکل بنتی ہے، کیونکہ اسی نوعیت یا اس سے کمتر معاملات میں وزرائے اعظم گھر جا چکے ہیں۔ لیکن توہین کی کارروائی کو نہایت احتیاط سے استعمال کرنا چاہئیے، اداروں کے درمیان تصادم نہیں ہونا چاہئیے، آئین کی بالادستی ہر لحاظ سے مینٹین کرنی چاہئیے۔

متعلقہ خبریں