اہم خبریں

سٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں220 پوائنٹس اضافے کا امکان

کراچی (نیوزڈیسک) حکومتی دعویٰ کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی تمام پیشگی شرائط ماسوائے زرمبادلہ کے ذخائر کو پورا کر دیا لیکن اس کے باوجود مرکزی بینک کی جانب سے اگلے زری پالیسی اجلاس میں شرح سود میں 220فیصدپوائنٹس اضافے کا امکان ہے۔ رپورٹ کے مطابق 22 مارچ کو منعقد ہونے والی ٹریژری بل کی نیلامی میں واضح اشارہ دیا گیا، جب قلیل مدتی سرکاری سرٹیفکیٹس پر نفع بڑھ کر تقریباً 22 فیصد ہوگیا۔مارچ کے پہلے ہفتے میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے 300 بیسس پوائنٹس بڑھا کر شرح سود 20 فیصد کر دی تھی، سود کی شرح میں اس بڑے اضافے سے چند دن قبل حکومت نے ٹریژری بل کی شرح کو بڑھا کر تقریباً 20 فیصد کر دیا تھا۔مقامی مالیاتی ڈیٹا پورٹل ٹریس مارک کے چیف ایگزیکٹو افسر فیصل مامسا نے بتایا کہ حقیقت یہ ہے کہ وزارت خزانہ نے شرح نفع میں اضافہ کیا، اس کا مطلب پالیسی ریٹ میں اضافہ ہے۔مرکزی بینک کا اگلا زری پالیسی اجلاس 4 اپریل کو شیڈول ہے۔حالیہ ٹریژری بل نیلامی میں تین مہینے، 6 مہینے اور 12 مہینے کے سرٹیفکیٹس کا منافع بالترتیب 100 بیسس پوائنٹس، 114 بیسس پوائنٹس اور 50 بیسس پوائنٹس بڑھایا گیا ہے، جس کی وجہ مارکیٹ کو توقع ہے کہ شرح سود میں مزید 200 بیسس پوائنٹس اضافہ کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں