اہم خبریں

پٹرول پر 100روپےسبسڈی دینا حکومت کو مہنگی پڑگئی، آئی ایم ایف کا انتباہ جاری

اسلام آباد(نیوزڈیسک)آئی ایم ایف نے پاکستان کی جانب سے ملک کے ’کم آمدنی والے طبقے‘ کو ایندھن پر سبسڈی فراہم کرنے کے فیصلے پر سوالات اٹھادیئے۔آئی ایم ایف کی ریزیڈنٹ نمائندہ ایستھر پیریز نے بلومبرگ کو ایک بیان میں بتایا کہ پاکستانی حکام نے ایندھن پر سبسڈی کے اعلان سے قبل آئی ایم ایف کے عملے سے مشاورت نہیں کی۔وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ ملک کے کم آمدنی والے طبقے کو پیٹرولیم ریلیف پیکج کے طور پر 50 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی، اس اقدام کا مقصد بڑھتی ہوئی مہنگائی اور روپے کی قدر میں کمی کے درمیان سیاسی سرمائے کو دوبارہ حاصل کرنا ہے۔حکومت کے منصوبے کے مطابق یہ ریلیف کم آمدنی والے صارفین کو دیا جائے گا جن کے پاس موٹر سائیکلیں، رکشے، 800 سی سی کاریں اور دیگر چھوٹی گاڑیاں ہیں۔جونیئر وزیر پیٹرولیم مصدق ملک کے اعلان کے مطابق اگلے روز اس میں 100 روپے کا اضافہ کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے 6 ہفتوں میں پیٹرول ریلیف اسکیم پر عملدرآمد کا حکم دیا ہے، سرکاری خزانے سے کوئی اضافی سبسڈی نہیں دی جائے گی۔مصدق ملک کے مطابق کم آمدنی والے شخص کو ہرماہ تقریبا 21 لیٹر پٹرول کی ضرورت ہوتی ہے۔ سستے پٹرول کے لیے موٹر سائیکل سواروں کو ایک بار میں 2 یا 3 لیٹر سے زیادہ پیٹرول نہیں دیا جائے گا۔ غریب وں کو فی لیٹر پٹرول پر 100 روپے کا ریلیف دیا جائے گا۔یہ سبسڈی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب اتحادی حکومت کو کمزور معیشت، سیاسی عدم استحکام اور دہشت گردی کے حملوں میں اضافے جیسے متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔

متعلقہ خبریں