کراچی( نیوزڈیسک) تیسرے ہفتے بھی ڈالر ریورس گئیر میں رہا۔چائنہ ڈیولپمنٹ کی جانب سے پاکستان کو 70کروڑ ڈالر کے تجارتی قرضوں کے اجرا،ذرمبادلہ کے بڑھتے ہوئے سرکاری ذخائر اور صدر مملکت کی جانب سے منی بجٹ کی منظوری جیسے عوامل روپے کے استحکام کا باعث بنے اور 5 روزہ ہفتہ وار کاروبار میں ڈالر کی نسبت روپیہ مزید 1.07فیصد تگڑا ہوا۔ہفتہ وار کاروبار کے دوران انٹربینک میں ڈالر پاؤنڈ یورو ریال کی قدروں میں کمی ہوئی جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر مستحکم،پاؤنڈ ریال کی قدر میں اضافہ اور یورو کی قدر میں کمی واقع ہوئی۔ہفتہ وار کاروبار کے دوران ڈالر کے انٹربینک ریٹ 260روپے سے بھی نیچے آگئے تاہم ڈالر کے اوپن ریٹ اتارچڑھائو کے بعد 268روپے کی سطح پر ہی مستحکم رہے۔علاوہ ازیں حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان اعتماد کے فقدان کی خبروں سے ہفتہ وار کاروبار کے دوران پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مندی رہی۔آئی ایم ایف سے سرکلر ڈیٹ کے معاملے پر مزاکرات کے تعطل کی خبروں کی گردش اور غیریقینی سیاسی حالات بھی مارکیٹ پر اثرانداز رہے، آئی ایم ایف شرائط کو پورا کرنے کی غرض سے کسی بھی وقت شرح سود دو سے ڈھائی فیصد بڑھنے کے خدشات پر انویسٹرز محتاط رہے، مجموعی طور پر مندی کے سبب انڈیکس کی 41000 پوائنٹس کی نفسیاتی حد دوبارہ گرگئی،ہفتے کے 2سیشنز میں تیزی اور 3سیشنز میں مندی رہی۔مندی کے باعث سرمایہ کاروں کے 1کھرب 9ارب 55کروڑ 20لاکھ 13ہزار 470روپے ڈوب گئے جس سے مارکیٹ کا مجموعی سرمایہ بھی گھٹ کر 63کھرب 20ارب 42 کروڑ 62لاکھ 26ہزار 694 روپے ہوگیا۔















