اسلام آباد: بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں صارفین سے 23 ارب 33 کروڑ روپے وصول کرنے کے لیے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں درخواست جمع کرا دی ہے۔ اس درخواست کی منظوری کی صورت میں بجلی صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔
یہ درخواست سال 2026 کی تیسری سہ ماہی، یعنی جولائی سے ستمبر کے عرصے کی ایڈجسٹمنٹ کے لیے جمع کرائی گئی ہے۔ تاہم فی یونٹ بجلی کی قیمت میں کتنا اضافہ ہوگا، اس کا حتمی فیصلہ نیپرا کرے گا۔
درخواست میں مختلف مدات کے تحت اضافی وصولیوں کی تجویز دی گئی ہے۔ اس میں کیپیسٹی چارجز کی مد میں 38 ارب 92 کروڑ روپے وصول کرنے کی تجویز شامل ہے، جبکہ آپریشنز اینڈ مینٹیننس کے اخراجات کی مد میں 5 ارب 59 کروڑ 70 لاکھ روپے اضافے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے انکریمنٹل پیکیج کے اثرات کی مد میں 29 ارب 25 کروڑ روپے کمی کی درخواست بھی کی ہے۔ ان تمام مالیاتی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد نیپرا بجلی کی قیمتوں پر پڑنے والے اثرات سے متعلق فیصلہ کرے گا۔
درخواست کے مطابق جولائی سے ستمبر 2026 کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کا اطلاق کراچی کے بجلی صارفین، یعنی کے الیکٹرک کے صارفین پر بھی ہوگا۔
نیپرا نے اس درخواست پر سماعت کے لیے 17 نومبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔ سماعت کے بعد اتھارٹی فیصلہ کرے گی کہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت صارفین سے اضافی رقم وصول کی جائے گی یا نہیں اور اگر اضافہ منظور ہوتا ہے تو فی یونٹ بجلی کی قیمت میں کتنا فرق پڑے گا۔
فی الحال درخواست جمع ہونے کے بعد حتمی فیصلے کا انتظار ہے، اس لیے بجلی کے نرخوں میں اضافے کی حتمی شرح نیپرا کے فیصلے سے ہی واضح ہوگی۔















