اہم خبریں

کراچی کے کن علاقوں میں لوڈشیڈنگ ختم ہوگئی؟ نئی فہرست جاری

کراچی کے شہریوں کے لیے بجلی سے متعلق اہم خبر سامنے آگئی ہے۔ کے الیکٹرک نے نیٹ ورک کے سہ ماہی جائزے کے بعد کراچی میں لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ علاقے کی نئی فہرست جاری کردی ہے۔ کمپنی کے مطابق شہر کے متعدد علاقوں میں لوڈشیڈنگ ختم کردی گئی ہے، جبکہ کئی علاقوں میں بجلی کی بندش کے دورانیے میں کمی کی جائے گی۔ نئے شیڈول کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔

کے الیکٹرک کے مطابق بروقت بجلی کے بلوں کی ادائیگی اور بجلی چوری کی روک تھام کے لیے کیے گئے اقدامات کے نتیجے میں مختلف علاقوں کے فیڈرز کی کیٹیگری بہتر ہوئی ہے۔ کمپنی نے نیٹ ورک کا جائزہ لے کر بجلی کی فراہمی کا تازہ شیڈول جاری کیا ہے۔

کراچی کے کن علاقوں میں لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی؟
کے الیکٹرک کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دیے گئے علاقوں میں کورنگی کی عبداللہ شاہ نورانی کالونی، پاک اتحاد کالونی، زمان ٹاؤن اور سیکٹر 48-A، 48-B، 48-C، 48-D اور 48-E شامل ہیں۔

اس کے علاوہ عزیزآباد کے بلاک 2 اور بلاک 8، فیڈرل بی ایریا، بھنگوریا گوٹھ، بلاک 9 یاسین آباد اور نعمت کالونی بھی فہرست میں شامل ہیں۔

دیگر علاقوں میں کیانی شہید، رینڈل روڈ، اے پی ڈبلیو اے کمپلیکس روڈ، جوبلی کلاتھ مارکیٹ، بلتستانی محلہ جیکب لائنز، شاہ عبداللطیف بھٹائی کالونی، الطاف ٹاؤن اور دیہہ ڈیہہ تپو ابراہیم حیدری گوٹھ شامل ہیں۔

کمپنی کے مطابق سائٹ کے بعض علاقوں اور سرجانی ٹاؤن کے سیکٹر L-1 اور 5-D کے فیڈرز کی کیٹیگری بھی بہتر ہوئی ہے۔

کن علاقوں میں لوڈشیڈنگ کم ہوگی؟
کے الیکٹرک کے مطابق زیادہ نقصانات والے فیڈرز کی کیٹیگری بہتر ہونے کے بعد کئی علاقوں میں بجلی کی بندش میں کمی آئے گی۔ ان علاقوں میں سعدت کالونی، موریا خان گوٹھ، سولجر بازار، ٹیگور اسٹریٹ، امین آباد سوسائٹی اور جمشید ٹاؤن کے مارٹن کوارٹرز شامل ہیں۔

اسی طرح اورنگی ٹاؤن کی خواجہ غریب نواز، ملت کالونی، مدینہ کالونی اور المصطفیٰ کالونی میں بھی لوڈشیڈنگ کم ہونے کی توقع ہے۔

کتنے علاقوں کو لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ حاصل ہے؟
کے الیکٹرک کے مطابق اس وقت اس کے سروس ایریا کے تقریباً 70 فیصد حصے میں لوڈشیڈنگ نہیں ہوتی۔ کمپنی کے مطابق 2 ہزار 100 سے زائد فیڈرز اس استثنیٰ میں شامل ہیں۔

صارفین بجلی کی فراہمی کا تازہ شیڈول کے الیکٹرک کی ویب سائٹ، کے ای لائیو ایپ اور واٹس ایپ سروس کے ذریعے معلوم کرسکتے ہیں۔

بجلی چوری کے خلاف کارروائیاں بھی جاری
کے الیکٹرک کے ترجمان عمران رانا کے مطابق بجلی کی قابلِ اعتماد فراہمی کے لیے بروقت بلوں کی ادائیگی اور لائن لاسز میں کمی ضروری ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں شہریوں، علاقائی نمائندوں اور منتخب عوامی نمائندوں کے تعاون کو اہم قرار دیا۔

کمپنی کے مطابق مالی سال 2026-27 کے آغاز سے اب تک بجلی چوری کے خلاف تقریباً 5 ہزار کارروائیاں کی گئی ہیں، جن کے دوران بجلی چوری میں استعمال ہونے والی 44 ہزار کلوگرام سے زائد غیرقانونی تاریں ہٹائی گئیں۔

کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ بجلی چوری والے علاقوں میں نگرانی جاری رہے گی، جبکہ نیٹ ورک کا سہ ماہی جائزہ بجلی کی فراہمی کے نظام میں شفافیت اور درستگی برقرار رکھنے کے لیے کیا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں