اسلام آباد ( اے بی این نیوز) وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ ملک توانائی کی قیمتوں کے حوالے سے غیر معمولی حالات سے گزر رہا ہے، ایل پی جی کی قیمت 400 سے 425 روپے فی کلو کے درمیان ہونی چاہیے، زیادہ قیمت وصول کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی تیاری مکمل کرلی گئی ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت ایل پی جی کی قیمتوں میں شفافیت لانا چاہتی ہے، جس طرح پیٹرول کی قیمتوں کے تعین میں شفافیت لانے کی کوشش کی گئی ہے، اسی طرح ایل پی جی کی قیمتوں کو بھی منظم کیا جائے گا۔
علی پرویز ملک کے مطابق ملک میں ایل پی جی کی یومیہ کھپت ساڑھے 6 ہزار سے 7 ہزار ٹن ہے، جس میں سے تقریباً ڈھائی ہزار ٹن مقامی طور پر پیدا ہوتی ہے جبکہ باقی ضرورت درآمدات کے ذریعے پوری کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایل پی جی کی قیمتوں کے معاملے پر حکومت کی سرگرمیاں جلد نظر آئیں گی اور آئندہ 2 سے 3 روز میں بہتری آنا شروع ہوجائے گی۔ حکومت ایل پی جی درآمد کرکے اسے نظام میں شامل کرے گی تاکہ عوام کو مناسب قیمت پر گیس فراہم کی جاسکے۔
وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ ایل پی جی کی مارکیٹ قیمت اور مقامی قیمت کے درمیان تقریباً 30 ارب روپے کا فرق ہے۔ ان کے مطابق چند افراد نے عدالتی حکم امتناع حاصل کر رکھے ہیں، جس کے باعث کارروائی میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ حکومت نے ستمبر تک متعلقہ افراد کو وارننگ دی تھی اور اب بھی انہیں مناسب قیمت پر ایل پی جی فراہم کرنے کی ہدایت کی جارہی ہے۔
علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ حکومت ایل پی جی کی زائد قیمت وصول کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرے گی اور اٹارنی جنرل کو ہدایت دی گئی ہے کہ زیر التوا مقدمات میں جہاں ممکن ہو عدالتی حکم امتناع ختم کرانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ قطر سے پاکستان کو روزانہ ایک ہزار ایم ایم سی ایف ڈی گیس فراہم ہوتی تھی۔ آبنائے ہرمز کی صورتحال کے باوجود قطر نے مشکلات کے دوران پاکستان کو 30 ڈالر کے بجائے 12 سے 13 ڈالر کی قیمت پر گیس فراہم کی۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں موجودہ مشکلات کا مستقل حل تلاش کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں اور اس حوالے سے فیلڈ مارشل اور وزیر داخلہ کی کاوشوں میں کامیابی کے لیے دعاگو ہیں۔
علی پرویز ملک کے مطابق حکومت نے نومبر سے فروری تک سردیوں کے دوران عوام کو گیس فراہم کرنے کے لیے حکمت عملی تیار کرلی ہے۔ کوشش کی جائے گی کہ شہریوں کو کھانا پکانے کے لیے تینوں اوقات میں گیس دستیاب ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایندھن کی سبسڈی کے لیے بجٹ مختص کیا گیا ہے اور اس میں ابھی کافی گنجائش موجود ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ توانائی کی قیمتوں اور گیس کی فراہمی سے متعلق مسائل پر قابو پایا جائے۔
مزید پڑھیں:ایشین پیرا گیمز میں حیدر علی نے پاکستان کے لیے سلور میڈل جیت لیا















