اسلام آباد (اے بی این نیوز) نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے خواتین کے جعلی سوشل میڈیا پروفائلز بنانے، نجی تصاویر اور ویڈیوز کی غیر مجاز تشہیر اور آن لائن بلیک میلنگ کے خلاف شہریوں کو خبردار کر دیا ہے۔
این سی سی آئی اے کے مطابق، جعلی اکاؤنٹس بنانا، ذاتی معلومات کا غلط استعمال اور آن لائن ہراسانی قابلِ سزا جرائم ہیں۔ ایجنسی نے متاثرین پر زور دیا ہے کہ ایسے واقعات کی فوری اطلاع ہیلپ لائن 1799 پر دیں اور شکایت کے ساتھ متعلقہ ثبوت بھی فراہم کریں۔
ایجنسی نے سوشل میڈیا صارفین کو ہدایت کی ہے کہ وہ آن لائن ہراسانی، جعلی پروفائلز اور نجی معلومات کے غلط استعمال کے واقعات رپورٹ کریں تاکہ ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے۔
خواتین کو بلیک میل کرنا یا کسی کا ذاتی ڈیٹا لیک کرنا سائبر کرائم ہے اور قانوناً جرم ہے۔ ایسے غیر قانونی عمل میں ملوث افراد کے خلاف آواز اٹھائیں اور متعلقہ شواہد کے ساتھ اپنی شکایت NCCIA میں درج کروائیں۔
#NCCIA #CyberCrime #Awareness https://t.co/6ndIyoevbI
— NCCIA (@NCCIAOFFICIAL) October 18, 2026
دوسری جانب آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور میں پولیس نے ایک لڑکی کی ویڈیو مبینہ طور پر اس کی اجازت کے بغیر ٹک ٹاک پر اپ لوڈ کرنے کے الزام میں ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق، لڑکی کے اہل خانہ نے 25 ستمبر 2026 کو شکایت درج کرائی تھی کہ ایک نامعلوم شخص نے اس وقت اس کی ویڈیو بنائی جب وہ اپنے بھائی کے ہمراہ اکیڈمی جا رہی تھی، بعد ازاں ویڈیو ایک جعلی اکاؤنٹ کے ذریعے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دی گئی۔
پولیس کے سائبر کرائم یونٹ نے اکاؤنٹ کا سراغ لگا کر مشتبہ شخص کی شناخت عیسیٰ کے نام سے کی، جو میرپور کے علاقے بنگ رارہ کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کرکے مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔
شہریوں کے لیے اہم ہدایت: آن لائن ہراسانی یا بلیک میلنگ کی صورت میں پیغامات، اسکرین شاٹس، اکاؤنٹ لنکس اور دیگر متعلقہ ثبوت محفوظ رکھیں اور متعلقہ ادارے کو رپورٹ کریں۔
مزیدپڑھیں: آج بریسٹ کینسر سے آگاہی کا عالمی دن، جلد تشخیص کی اہمیت پر زور















