اہم خبریں

جورا انرجی کی مبینہ خلاف ورزی، ٹرا نسپیرنسی انٹرنیشنل کاوزیراعظم سے تحقیقات کا مطالبہ

اسلام آباد(اے بی این نیوز)ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے جورا انرجی کارپوریشن میں کنٹرولنگ حصص کی منتقلی سے متعلق مبینہ ریگولیٹری خلاف ورزی پر وزیراعظم شہباز شریف سے مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کنٹرول گ شئیرز کی دوسری کمپنی کو منتقلی سے پہلے حکومت پاکستان کی اجازت نہ لینے اور پھر اسے متعقلہ وزارت سے صرف وارننگ دینے کی کوشش سے پاکستان کے پٹرولیم شعبے کے قانونی اور ریگولیٹری نظام کو متاثر کر سکتی ہے۔

وزیراعظم کے مشیر کو لکھے گئے خط کے مطابق جورا انرجی کارپوریشن کے تقریباً 73.3 فیصد کنٹرولنگ حصص آئی ڈی ایل انویسٹمنٹس لمیٹڈ کو منتقل کیے گئے، تاہم متعلقہ پٹرولیم قوانین کے تحت مبینہ طور پر درکار حکومت پاکستان کی پیشگی منظوری حاصل نہیں کی گئی۔

اینٹی کرپشن ادارے کے مطابق نے 18 جولائی 2025 کو ڈائریکٹوریٹ جنرل پٹرولیم کنسیشنز (DGPC) کی جانب سے جاری شوکاز نوٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نوٹس میں مذکورہ لین دین اور پاکستان پٹرولیم (ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن) رولز کے تحت اس کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے مطابق متعلقہ وزارت نے اکنامک کوارڈینیشن کمیٹی کو دو آپشنز دیے ہیں ، جن میں جورا انرجی کی ذیلی کمپنیوں فرنٹیئر ہولڈنگز لمیٹڈ (FHL) اور اسپڈ انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ (SEPL) کے پٹرولیم حقوق منسوخ کرنا، یا پھر محض وارننگ جاری کرنے کے بعد حصص کی منتقلی کو بعد از وقوعہ ریگولرائز کرنا شامل ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے حصص کی منتقلی کو بعد ازاں ریگولرائز کرنے کی قانونی بنیاد پر سوال اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایسا اقدام اس امر کی تصدیق کے مترادف ہو سکتا ہے کہ مذکورہ لین دین سے قبل حکومتی منظوری درکار تھی۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے معاملے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معلوم کیا جائے کہ وارننگ اور ریگولرائزیشن کا آپشن کس نے تجویز کیا، اس کے لیے کون سا قانونی اختیار استعمال کیا گیا اور متعلقہ قانونی مؤقف اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) کے سامنے درست انداز میں پیش کیا گیا یا نہیں۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ یہ بھی معلوم کیا جائے کہ کسی فیصلے کی تجویز پیش کرنے سے قبل ٹیکس، کیپیٹل گینز اور دیگر مالیاتی واجبات و کلیئرنسز کا مکمل جائزہ لیا گیا تھا یا نہیں۔

مراسلے کے مطابق مذکورہ لین دین کی مالیت تقریباً 1.266 ملین کینیڈین ڈالر، یعنی تقریباً 31 کروڑ 60 لاکھ روپے بنتی ہے، جس کے ممکنہ ٹیکس اثرات پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے متعلقہ حکام سے یہ تعین کرنے کا مطالبہ کیا ہے کہ آیا اس لین دین پر کیپیٹل گینز ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس عائد ہوتا تھا یا نہیں۔
۔

18 جولائی 2025 کے شوکاز نوٹس میں پٹرولیم ڈویژن نے جورا انرجی، ایف ایچ ایل اور ایس ای پی ایل سے لین دین سے متعلق تفصیلی معلومات طلب کی تھیں، جن میں 6 مارچ 2025 کی منتقلی سے قبل اور بعد کی شیئر ہولڈنگ، انتظامی و کنٹرول ڈھانچے میں تبدیلیاں، ریگولیٹری انکشافات اور ٹیکس ٹریٹمنٹ شامل تھے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے پر مکمل طور پر قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے، فیصلہ سازی کے عمل میں شفافیت یقینی بنائی جائے اور لازمی قاوانین پر عمل نہ کرنے پر اور ان خلاف ورزیوں پر صرف وارننگ کی تجویز کے ذمہ داران کا تعین کیا جائے۔
مزیدپڑھیں: جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس،عمران خان کو آئندہ سماعت پر پیش کرنے کا حکم

متعلقہ خبریں