اہم خبریں

15 اکتوبر سے مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ کا اجرا بند، ای پاسپورٹ لازمی قرار

اسلام آباد (اے بی این نیوز) پاکستان 15 اکتوبر 2026 سے نئے مشین ریڈ ایبل پاسپورٹس (MRPs) کا اجرا بند کرکے مکمل طور پر ای پاسپورٹ نظام کی جانب منتقل ہونے جا رہا ہے۔

ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس (DGI&P) کے مطابق 15 اکتوبر یا اس کے بعد نئے پاسپورٹ کے لیے درخواست دینے والے شہریوں کو مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ کے بجائے ای پاسپورٹ جاری کیا جائے گا ۔ اس فیصلے کا اطلاق پاکستان کے پاسپورٹ دفاتر کے ساتھ بیرونِ ملک پاکستانی سفارتی مشنز پر بھی ہوگا۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ موجودہ مشین ریڈ ایبل پاسپورٹس 15 اکتوبر سے منسوخ نہیں ہوں گے ۔ شہری اپنے موجودہ MRP کو اس کی میعاد ختم ہونے تک سفر کے لیے استعمال کرسکیں گے، جبکہ تجدید یا نئی درخواست کی صورت میں ای-پاسپورٹ جاری ہوگا۔

ای-پاسپورٹ میں ایک کانٹیکٹ لیس الیکٹرانک چپ نصب ہوتی ہے، جس میں پاسپورٹ ہولڈر کی ذاتی اور بائیومیٹرک معلومات، منفرد شناختی نمبر اور ڈیجیٹل دستخط محفوظ ہوتے ہیں۔ یہ پاسپورٹ جدید امیگریشن سسٹمز، خودکار امیگریشن اور ای-گیٹس کے استعمال میں معاون ہے۔

DGI&P کے مطابق ای-پاسپورٹ کے لیے درخواست کا طریقہ کار بڑی حد تک روایتی پاسپورٹ جیسا ہی ہے اور مطلوبہ دستاویزات بھی بنیادی طور پر وہی ہیں۔

36 صفحات کے عام ای پاسپورٹ کی پانچ سالہ فیس 9 ہزار روپے جبکہ 10 سالہ فیس 13 ہزار 500 روپے ہے۔ ارجنٹ کیٹیگری میں پانچ سالہ پاسپورٹ کی فیس 15 ہزار جبکہ 10 سالہ پاسپورٹ کی فیس 22 ہزار 500 روپے مقرر ہے۔

پاکستان میں ای-پاسپورٹ کا نظام پہلے ہی ملک بھر کے فیلڈ دفاتر میں نافذ کیا جاچکا ہے، جبکہ 15 اکتوبر سے نئے پاسپورٹ کے اجرا میں MRP کے بجائے ای پاسپورٹ بنیادی دستاویز ہوگا۔
مزیدپڑھیں: عراق سے امریکی افواج کا دو دہائیوں بعد انخلا شروع ہوگیا

متعلقہ خبریں