راولپنڈی (اے بی این نیوز) مشہور ڈیجیٹل کری ایٹر اور ہیوی بائیک رائیڈر 28 سالہ کومل جان کی لاش راولپنڈی کے دریائے سواں سے برآمد ہوگئی، تاہم وہ دریا میں کیسے ڈوبیں، اس حوالے سے تاحال صورتحال واضح نہیں ہوسکی۔
کومل جان ’’رائیڈ ود کومل جان‘‘ کے نام سے سوشل میڈیا پر ہیوی بائیک رائیڈنگ کی ویڈیوز اپ لوڈ کرتی تھیں۔ وہ الیکشن کمیشن میں بھی ملازمت کرتی تھیں۔
پولیس کے مطابق ون فائیو پر اطلاع دی گئی تھی کہ ایک خاتون نے پل سے دریائے سواں میں چھلانگ لگائی ہے۔ واقعے کے وقت دریائے سواں میں طغیانی تھی۔ واقعے کے مقام کے قریب کومل جان کی موٹرسائیکل موجود تھی، جبکہ ان کا موبائل فون ہینڈ بیگ سے ملا۔
لاش برآمد ہونے کے بعد پوسٹ مارٹم بھی کرایا گیا، تاہم ورثا نے کسی قسم کی قانونی کارروائی سے انکار کردیا۔
کومل جان کیسے دریا میں گریں؟ تحقیقات جاری
اہل خانہ کے مطابق کومل جان واقعے والے روز معمول کے مطابق دفتر گئی تھیں اور وہاں سے فون پر بات بھی ہوئی۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اس وقت سب کچھ معمول کے مطابق تھا، تاہم بعد ازاں اچانک ان کے دریا میں ڈوبنے کی اطلاع ملی۔
ذرائع کے مطابق پولیس مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا کومل جان ویڈیو بناتے ہوئے پاؤں پھسلنے کے باعث دریا میں گریں یا واقعے کے پسِ پردہ کوئی اور معاملہ ہے۔
تحقیقات میں یہ پہلو بھی زیر غور ہے کہ اگر وہ خود ویڈیو بنا رہی تھیں تو موبائل فون ان کے پاس کیوں نہیں تھا اور آیا اس وقت کوئی دوسرا شخص ویڈیو بنا رہا تھا یا نہیں۔
خودکشی کے امکان سے متعلق بھی تاحال کوئی واضح شواہد سامنے نہیں آئے۔ پولیس اس بات کا بھی سراغ لگانے کی کوشش کر رہی ہے کہ ون فائیو پر واقعے کی اطلاع کس شخص نے دی تھی اور کیا واقعے کا کوئی عینی شاہد موجود ہے۔
پولیس کی جانب سے واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ کومل جان کی موت کے اصل محرکات تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوسکیں گے۔
مزیدپڑھیں:براڈ پیک حادثے میں لاپتہ ہونے والے پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی کی لاش مل گئی















