اسلام آباد: وفاقی حکومت نے 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا اہم فیصلہ کر لیا ہے تاکہ ملکی ضروریات کو بروقت پورا کیا جا سکے اور گندم کی مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ملک بھر میں گندم کی مسلسل دستیابی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔
وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے مطابق درآمد کی جانے والی گندم کے ذریعے اندرونِ ملک طلب پوری کی جائے گی، جبکہ مارکیٹ میں سپلائی بہتر ہونے سے قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے میں بھی معاونت ملے گی۔
وزارت کا کہنا ہے کہ پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) کے پاس موجود گندم کے ذخائر سے بھی صوبوں کی ضروریات پوری کی جائیں گی تاکہ کسی بھی علاقے میں قلت کی صورتحال پیدا نہ ہو۔
حکام کے مطابق 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ موجودہ ضروریات، دستیاب ذخائر اور مستقبل کی طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ حکومت اس امر کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ ملک بھر میں آٹے اور گندم کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے۔
وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ عوام کو معیاری اور مناسب قیمت پر گندم کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ اسی مقصد کے تحت گندم کی سپلائی چین کو مضبوط بنانے اور مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بروقت درآمد سے نہ صرف سپلائی بہتر ہوگی بلکہ مستقبل میں طلب اور رسد کے درمیان ممکنہ فرق کو بھی کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔















