الہ آباد(اے بی این نیوز) بھارت کے ایک موجد نے طویل جدوجہد کے بعد ایسا انجن تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو ایندھن کی بچت میں انقلاب لا سکتا ہے۔ الہ آباد یونیورسٹی کے سابق طالب علم شیلندر سنگھ نے 18 سال کی مسلسل محنت کے بعد “سکس اسٹروک انجن تیار کر لیا، جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ روایتی انجنوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ مائلیج فراہم کرتا ہے۔
موجد کے مطابق اس انجن کو 100 سی سی موٹرسائیکل پر آزمایا گیا، جہاں حیران کن طور پر 1 لیٹر پٹرول میں 200 کلومیٹر تک سفر ممکن ہوا۔ شیلندر سنگھ کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے انہوں نے اپنی ذاتی جائیداد، زمین اور کاروبار تک قربان کر دیا۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ ٹیکنالوجی عملی طور پر کامیاب ثابت ہو جاتی ہے تو نہ صرف ایندھن کے اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی کمی ممکن ہو سکے گی۔ تاہم اس ایجاد کی باقاعدہ سائنسی تصدیق اور کمرشل سطح پر اطلاق ابھی باقی ہے۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں مہنگے ایندھن کے باعث متبادل توانائی اور کم خرچ سفری ذرائع کی تلاش جاری ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ سکس اسٹروک انجن واقعی سستے سفر کے خواب کو حقیقت بنا پاتا ہے یا نہیں۔
مزید پڑھیں: بیلاروسی لڑکی پاکستانی لڑکے کی محبت میں گرفتار،اسلام قبول کرکے شادی کرلی















