اہم خبریں

قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے مخصوص گروہوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے،سابق گورنر سندھ محمد زبیر

سابق گورنر سندھ محمد زبیر (       Muhammad zubair)نے اے بی نیوز کے پروگرام تجزیہ میں کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے عالمی امن کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے، اور خاص طور پر اسرائیلی پالیسیاں خطے کے استحکام کے لیے خطرناک ثابت ہو رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایران پر حالیہ حملوں کے بعد خطے میں تناؤ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے، جبکہ اسرائیل کی جارحانہ حکمت عملی دراصل اپنی ساکھ کو بحال کرنے کی کوشش ہے۔ ان کے مطابق عالمی طاقتوں کو فوری طور پر اس غیر محتاط طرزِ عمل کا نوٹس لینا ہوگا تاکہ صورتحال مزید خراب نہ ہو۔

محمد زبیر نے کہا کہ پاکستان نے اس نازک صورتحال میں نہایت ذمہ دارانہ اور متوازن کردار ادا کیا، جبکہ یورپی ممالک بھی جنگ بندی اور قیام امن کے لیے سرگرم سفارتی کوششیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سفارتکاری ہی واحد راستہ ہے جو اس بحران کو کم کر سکتا ہے۔

انہوں نے عالمی معیشت پر اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ تنازع کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس کے اثرات پاکستان سمیت دنیا بھر کی معیشتوں پر پڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان اسٹاک ایکسچینج بھی اس غیر یقینی صورتحال سے متاثر ہوئی ہے، جبکہ سرمایہ کاروں میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔

مزید پڑھیں  :ایران،امریکہ مذاکرات،22 اپر یل سے پہلے بڑی بریکنگ نیوز، رائٹرز کا دعویٰ سامنے آگیا، جا نئے کیا

معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عوام پر شدید مالی دباؤ ڈال دیا ہے، اور عام آدمی کی زندگی براہ راست متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے مخصوص گروہوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔انہوں نے ایل این جی منصوبوں سے متعلق عدالتی معاملات کو بھی معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیا اور کہا کہ موجودہ قانونی پیچیدگیوں کے باعث اس شعبے کو مستقل مالی نقصان کا سامنا ہے۔

توانائی کے شعبے پر بات کرتے ہوئے محمد زبیر نے کہا کہ ملک میں سولرائزیشن کا بڑھتا ہوا رجحان مثبت پیش رفت ہے، اور عالمی سطح پر بھی پاکستان میں شمسی توانائی کے استعمال کو دلچسپی سے دیکھا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق بجلی بحران سے نمٹنے کے لیے طویل المدتی پالیسیوں اور حقیقت پسندانہ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔انہوں نے آخر میں کہا کہ عالمی سیاسی اور معاشی حالات اس قدر پیچیدہ ہو چکے ہیں کہ کسی ایک شخصیت یا فیصلے سے تمام مسائل حل نہیں ہو سکتے، اس کے لیے مربوط اور سنجیدہ عالمی کوششیں ناگزیر ہیں۔

 

متعلقہ خبریں