وزیر خارجہ حاقان فیدان ترکی نے اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ( america )اور ایران دونوں جنگ بندی کے حوالے سے سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں، تاہم بعض حساس نکات اب بھی مذاکرات میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جوہری افزودگی کا معاملہ بدستور ایک بڑا چیلنج ہے،( iran ) اور اگر اس پر کوئی قابل قبول سمجھوتہ نہ ہو سکا تو مسائل مزید بڑھ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ نکتہ دونوں فریقین کے درمیان اختلافات کی بنیادی وجہ ہے، جسے حل کیے بغیر مکمل پیش رفت ممکن نہیں۔
مزید پڑھیں :اسلام آباد ہائی کورٹ کا بڑا حکم، سید پور میں بیدخلی اور مسماری روک دی گئی
حاقان فیدان نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے زور دیا کہ اس اہم بحری گزرگاہ کو مذاکرات کے ذریعے کھولنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اس راستے کا کھلا رہنا نہایت ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز میں عالمی فورس کی تعیناتی کے حوالے سے کئی عملی مشکلات درپیش ہیں، اس لیے اس مسئلے کا حل عسکری نہیں بلکہ سفارتی ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق سمندری راستوں کو کھولنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات ہی واحد مؤثر راستہ ہیں۔ترک وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں تمام فریقین کو سنجیدگی، تحمل اور سفارتکاری کو ترجیح دینا ہوگی تاکہ خطے کو کسی بڑے بحران سے بچایا جا سکے۔















