اہم خبریں

ایران کے خلاف جنگ،اسرائیل کی چیخیں نکل گئیں، اربوں لگ گئے،ایران اب بھی اپنی جگہ قائم،جا نئے اندر کی رپورٹ

 

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال نے اسرائیل کی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، جہاں حکام نے پہلی بار بھاری مالی نقصان کا اعتراف کیا ہے۔ تل ابیب سے سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق جنگی اخراجات نے ملکی خزانے پر غیر معمولی دباؤ ڈال دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں پر اب تک 11 ارب ڈالر سے زائد لاگت آچکی ہے، جبکہ مجموعی طور پر تقریباً 35 ارب شیکلز کے اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑے۔ یہ اخراجات زیادہ تر دفاعی سرگرمیوں، فوجی آپریشنز اور سیکیورٹی اقدامات پر خرچ ہوئے ہیں، جس سے قومی بجٹ پر واضح دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔

اسرائیلی وزارت خزانہ کے مطابق جنگ کے باعث نہ صرف دفاعی اخراجات بڑھے بلکہ انفراسٹرکچر کو نقصان اور کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ بھی معیشت کے لیے بڑا چیلنج بن گئی ہے۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق اگر یہ تنازع طویل ہوا تو معاشی صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں :بڑی طاقت میدان میں آگئی،اہم پیشکش،جا نئے کیا
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ صرف دفاعی مد میں ہی اب تک 22 ارب شیکلز خرچ کیے جا چکے ہیں، جبکہ دیگر اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگی حالات میں طویل مدت تک اخراجات کا بوجھ کسی بھی معیشت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب سیاسی محاذ پر بھی مشکلات بڑھتی دکھائی دے رہی ہیں، جہاں بنیامین نیتن یاہو کو درپیش کرپشن کیس ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ان پر رشوت، فراڈ اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات ہیں، اور جنگی صورتحال کے باعث کچھ عرصے کے لیے معطل رہنے والی سماعتیں دوبارہ شروع کی جا رہی ہیں۔

 

متعلقہ خبریں