اہم خبریں

پیچیدہ مذاکراتی عمل کے باعث فوری معاہدے کا امکان فی الحال نظر نہیں آ رہا، منیر اکرم

سابق پاکستانی سفارتکار اور اقوام متحدہ میں مستقل مندوب رہنے والے منیر اکرم (    munir akram)نے موجودہ عالمی اور علاقائی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیچیدہ مذاکراتی عمل کے باعث فوری معاہدے کا امکان فی الحال نظر نہیں آ رہا، جبکہ فریقین کے سخت مؤقف صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔

ان کے مطابق ابتدائی مرحلے میں دونوں اطراف نے اپنی زیادہ سے زیادہ شرائط پیش کر دی ہیں، جس کے باعث پیش رفت سست روی کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ حتمی نتائج کے حصول کے لیے مزید کئی دور اور طویل نشستوں کی ضرورت ہوگی، جبکہ مذاکرات کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے باہمی ہم آہنگی ناگزیر ہے۔

منیر اکرم نے کہا کہ پاکستان سمیت ترکی، چین اور سعودی عرب مذاکراتی عمل میں مثبت اور اہم معاون کردار ادا کر رہے ہیں، جو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ سفارتی کوششوں کو ترک کرنا کسی بھی صورت مناسب نہیں ہوگا، کیونکہ مستقبل کے استحکام کے لیے نتیجہ خیز مذاکراتی عمل ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ حکمت عملی کے ساتھ ان مذاکرات کو منطقی انجام تک پہنچائے۔وہ اے بی این نیوز کے پروگرام ’’ڈبیٹ @8‘‘ میں گفتگو کرط رہے تھے انہوں نے کہا کہ

دنیا میں طاقت کا توازن موجود ضرور ہے، لیکن اصل راستہ جنگ نہیں بلکہ مذاکرات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دوبارہ جنگ شروع ہوتی ہے تو اس کے اثرات کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا متاثر ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں کشیدگی کے باوجود بعض ممالک اپنی صلاحیت کا اظہار کر رہے ہیں، تاہم اس کا حل صرف سفارتکاری ہی ہے۔ ان کے مطابق جنگ کسی کے مفاد میں نہیں، چاہے وہ امریکا ہو، ایران یا خطے کے دیگر ممالک۔
مزید پڑھیں :زلزلے کے جھٹکے، شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا
منیر اکرم نے اس بات پر زور دیا کہ پیغام رسانی، سفارتی رابطے اور مسلسل مذاکرات کے ذریعے ہی معاملات کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوری جنگ بندی اور طویل المدتی حل کے لیے بین الاقوامی سطح پر اتفاق رائے ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل و فلسطین سمیت تمام تنازعات کا حل اقوام متحدہ کے فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے نکالا جانا چاہیے، اور پاکستان سمیت تمام ممالک کا مؤقف بھی یہی ہے کہ جنگ کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دی جائے۔ان کے مطابق پاکستان نے مختلف ممالک کے ساتھ رابطوں کے ذریعے مثبت کردار ادا کیا ہے، جس کا مقصد خطے اور عالمی سطح پر امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔

 

متعلقہ خبریں