تہران ( اے بی این نیوز )ایران کی مسلح افواج نے واضح پیغام دے دیا ہے کہ وقتی خاموشی کو کمزوری نہ سمجھا جائے، ہر محاذ پر مکمل تیاری برقرار ہے اور کسی بھی اچانک صورتحال کا فوری جواب دینے کی حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے۔ فوجی ترجمان نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ ماضی کے تلخ تجربات نے یہ سکھایا ہے کہ مخالف قوتوں پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا، اسی لیے جنگ بندی کے باوجود ہائی الرٹ رہنا ناگزیر ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جدید جنگی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جا چکا ہے اور دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے، جبکہ قیادت کے کسی بھی حکم پر فوری کارروائی کے لیے تمام یونٹس تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جوہری معاہدوں اور سفارتی مذاکرات کے باوجود بارہا وعدہ خلافیوں نے اعتماد کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے، تاہم بدلتی صورتحال میں بعض پہلوؤں پر نئی حکمت عملی بھی زیر غور ہے۔
دوسری جانب لبنان میں حالیہ فضائی حملوں نے پورے خطے کو ایک بار پھر بے چینی میں مبتلا کر دیا ہے، جہاں دارالحکومت سمیت مختلف علاقوں میں شدید حملوں کے نتیجے میں شہری جانوں کا نقصان ہوا، جس کے بعد حالات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔ ایران کی قومی سلامتی سے متعلق اہم رہنماؤں نے بھی سخت ردعمل کا عندیہ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر حملے جاری رہے تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔
مزید پڑھیں :لبنان پر جاری حملے جنگ بندی مذاکرات کو بے معنی بنا سکتے ہیں، مسعود پزشکیان















