کوئٹہ (اے بی این نیوز) وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ریاست مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہے، بندوق کے زور پر کوئی نظریہ مسلط نہیں کیا جا سکتا۔
19 ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں گڈ گورننس کے فروغ کیلئے سنجیدہ اقدامات جاری ہیں، محکمہ تعلیم میں اساتذہ کی بھرتیاں سو فیصد میرٹ پر ہوئیں، 3200 بند سکول فعال کئے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے بیرون ملک بیٹھے پاکستان مخالف عناصر نوجوانوں کو گمراہ کر رہے ہیں، بلوچستان سے متعلق غیر مستند تاریخی حوالوں سے نوجوانوں کی منفی ذہن سازی کی جا رہی ہے، نوجوان مستند تاریخ سے آگاہی حاصل کر کے سچ اور جھوٹ میں واضح فرق کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ نوجوان پاکستان کی امید ہیں، سوشل میڈیا سمیت ہر محاذ پر ریاست کا دفاع کریں، تشدد پر مبنی کارروائیوں اور رویوں کا غیر متوازن ترقی سے کوئی تعلق نہیں۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ ریاست مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہے، بندوق کے زور پر کوئی نظریہ مسلط نہیں کیا جا سکتا، آئین کا آرٹیکل 5 ریاست سے غیر مشروط وفاداری کا درس دیتا ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم متاثرہ فریق ہیں، ریاست کے ساتھ کھڑا تھا اور کھڑا رہوں گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں احتجاج کے نام پر کئی کئی دن سڑکیں بند رہتی تھیں،اب بلوچستان میں کوئی شاہراہ احتجاج کے نام پر غیر معینہ مدت تک بند نہیں ہوتی، جو آئین فرد کو احتجاج کا حق دیتا ہے وہ عام آدمی کے حقوق کا بھی محافظ ہے۔
سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ علیحدگی پسند عناصر کی لیجیٹیمیٹڈ وائسز سے بھی کوئی رعایت نہیں ہوگی، مسنگ پرسنز کے معاملے کو ریاست کے خلاف پروپیگنڈا ٹول کے طور پر استعمال کیا گیا، موثر قانون سازی کے ذریعے مسنگ پرسنز کا مسئلہ ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا گیا۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں غیر ملکی وفود کی آمد کے باعث خصوصی ٹریفک پلان نافذ















