اہم خبریں

بریکنگ نیوز۔۔۔حکومت کی کابینہ میں بڑی ممکنہ تبدیلی،جا نئے کس کی وزارت جا رہی ہے

اسلام آباد (رضوان عباسی)حکومت کے اندر ایک بار پھر سیاسی اور تکنیکی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ سینئر اور بااثر حکومتی حلقوں کی جانب سے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو ہٹانے کے لیے اندرونِ خانہ مشاورت اور سرگرمیاں تیز ہونے کی اطلاعات ہیں، جو کسی حد تک سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے دور میں سامنے آنے والے معروف “فراغت منصوبہ” کی یاد تازہ کرتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق مہنگائی کے بڑھتے بوجھ، معاشی دباؤ اور محصولات کے اہداف کے حصول میں مسلسل مشکلات کے باعث وزیر خزانہ کی کارکردگی پر حکومتی اور معاشی حلقوں میں تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ رواں مالی سال 2025-26 کے پہلے نو ماہ (جولائی تا مارچ) کے دوران وفاقی بورڈ برائے محصولات کا ٹیکس شارٹ فال 610 ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔ وفاقی بورڈ برائے محصولات نے 9 ہزار 307 ارب روپے ٹیکس وصول کیا جبکہ نظرِ ثانی شدہ ہدف 9 ہزار 917 ارب روپے مقرر تھا، جسے حاصل نہ کیا جا سکا اور اسے حکومتی معاشی حکمت عملی کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دو سال گزرنے کے باوجود عوام اور کاروباری طبقے کو نمایاں ریلیف نہیں مل سکا۔ معاشی استحکام کے نام پر نئے ٹیکسوں کا بوجھ بڑھایا جا رہا ہے، جس سے تاجر برادری اور عام شہری دونوں متاثر ہو رہے ہیں۔
پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ایسے شخص کو وزیر خزانہ بنایا گیا جو اس وقت غیر ملکی شہریت رکھتے تھے۔ محمد اورنگزیب نیدرلینڈز کے شہری تھے۔ مارچ 2024 میں انہیں خصوصی طور پر پاکستان واپس لا کر وفاقی کابینہ میں وزیر خزانہ مقرر کیا گیا۔ وزارت سنبھالنے کے فوراً بعد ان کی ڈچ شہریت ترک کرنے کی درخواست منظور کی گئی، اس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری ہوا، انہوں نے حلف اٹھایا اور بعد ازاں وفاقی کابینہ نے اس فیصلے کی توثیق بھی کر دی۔ تاہم ناقدین اب اس “غیر منتخب” اور “بیرونِ ملک سے آنے والے” وزیر پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل بھی اپنی تقرری کے وقت غیر منتخب تھے اور چند ماہ ہی وزارت خزانہ سنبھال سکے تھے۔ اس دوران وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے تاجروں پر بجلی کے بلوں میں عائد فکسڈ ٹیکس کے خلاف سخت ردعمل دیا تھا اور اس پالیسی پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کیا تھا۔ موجودہ صورتحال میں بعض حلقے اسی نوعیت کا ماحول دوبارہ بنتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حکومتی اندرونی مظبوط حلقوں میں محمد اورنگزیب کی جگہ کسی “قابلِ اعتماد اور مقامی” شخصیت کو لانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں وزارت خزانہ میں مبینہ ناکامی، معاشی پالیسیوں پر تنقید اور ممکنہ تبدیلی سے متعلق خبروں کا سلسلہ ایک بار پھر سامنے آ رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق معاشی چیلنجز، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پروگرام اور محصولات کے اہداف کے حصول میں مشکلات کو بنیاد بنا کر اندرونی سطح پر ایک مہم بھی چلائی جا رہی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ آئندہ چند ہفتوں میں اہم تبدیلی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
موجودہ معاشی صورتحال میں حکومت کو مستقل اور واضح پالیسیوں کے ساتھ ٹھوس معاشی اصلاحات کی ضرورت ہے، نہ کہ مسلسل سیاسی کشمکش کی۔ عوام پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہیں اور مزید تجربات کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

مزید پڑھیں :ایران کیلئے دو آپشن،ٹرمپ فیصلہ کن موڑ پر کھڑے ہیں،امریکی میڈیا

متعلقہ خبریں