لندن (اے بی این نیوز ) ایپسٹین فائلز اسکینڈل نے برطانوی سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے اور ایک سابق سفیر کی گرفتاری کے بعد معاملہ مزید سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔ برطانوی ذرائع کے مطابق سابق سفیر پیٹر مینڈیلسن کو عہدے کے مبینہ غلط استعمال کے شبے میں حراست میں لیا گیا۔رپورٹس کے مطابق پیٹر مینڈیلسن، جو ماضی میں امریکا میں برطانیہ کے سفیر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں اور لیبر پارٹی کے سینئر رہنما رہ چکے ہیں، پر الزام ہے کہ ان کے بدنام زمانہ امریکی مالیاتی شخصیت جیفری ایپسٹین کے ساتھ قریبی تعلقات تھے۔ گزشتہ برس ان تعلقات کی نوعیت اور گہرائی سے متعلق تفصیلات منظرعام پر آنے کے بعد انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔
انہوں نے سفارتی عہدے سے برطرفی کے بعد پارلیمنٹ کے ایوان بالا کی نشست بھی چھوڑ دی اور لیبر پارٹی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان پر یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ وزارت کے دوران انہوں نے حساس دستاویزات ایپسٹین کو بھجوائیں۔میٹروپولیٹن پولیس نے اپنے بیان میں کہا کہ ایک 72 سالہ شخص کو اختیارات کے ناجائز استعمال کے شبے میں گرفتار کیا گیا۔ پولیس کے مطابق انہیں شام ساڑھے چار بجے حراست میں لیا گیا اور بعد ازاں ابتدائی تفتیش کے بعد ضمانت پر رہا کر دیا گیا تاکہ مزید تحقیقات جاری رکھی جا سکیں۔
مزید پڑھیں :پی ٹی آئی کیلئے خوشخبری،عمران خان اور بشریٰ بی بی کے7 مقدمات کے حوالے سے اہم خبر،جا نئے تفصیلات















