اہم خبریں

علیمہ خان نےکوئی ڈیل آفرکی ہے،راناثنااللہ کا دعویٰ،جا نئے تفصیلات

اسلام آباد ( اے بی این نیوز        ) مشیرِ وزیر اعظم رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کے دور سے ہی بانی پی ٹی آئی عمران خان کے رویے پر بات چیت جاری تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بانی پی ٹی آئی چاہتے تھے کہ مئی 2023 میں انتخابات ہوں، جبکہ 2023 میں مختلف کمیٹیوں کے ذریعے مذاکرات ہوئے اور معاملات طے پا گئے تھے۔

اس وقت اکتوبر یا مئی کی تاریخوں پر بات ہو رہی تھی مگر بالآخر جولائی 2023 میں انتخابات پر اتفاق ہو گیا تھا، تاہم اگلے ہی دن بانی پی ٹی آئی نے انکار کر دیا اور کہا کہ نہ کوئی مذاکرات ہوں گے اور نہ کوئی سمجھوتہ۔ انہوں نے بتایا کہ قومی اسمبلی میں بھی مذاکراتی کمیٹی قائم کی گئی تھی جس میں پرویز اشرف، اسحاق ڈار اور عرفان صدیقی شامل تھے۔

علیمہ خان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وہ بانی پی ٹی آئی کی بہن ہیں اور ان کا احترام اپنی جگہ، علیمہ خان نےکوئی ڈیل آفرکی ہے،۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم کسی ادارے کے سربراہ پر بات نہیں کریں گے، بانی کو الشفا منتقل کیا جائے۔

رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق دیکھا جائے گا کہ ایسی درخواست پوری کی جا سکتی ہے یا نہیں، اور یہ فیصلہ ڈاکٹرز کی ہدایات کی روشنی میں ہوگا۔ ان کے بقول ڈاکٹر کی ایڈوائس کے بغیر بانی پی ٹی آئی کو کسی نجی ہسپتال منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر علیمہ خان یہ کہتی ہیں کہ بانی کو ہسپتال منتقل کریں اور باقی باتیں نہ کی جائیں تو اس بیان کے بھی اپنے معنی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اداروں کے خلاف پروپیگنڈا دشمن ملک کرتا ہے، اس لیے سوال یہ ہے کہ اس بیانیے کا حصہ کیوں بنا جائے۔ اگر اس طرح کا پروپیگنڈا دہرانا مشکلات پیدا کرتا ہے تو پھر ایسا کیوں کیا جاتا ہے۔رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو کیسز میں ریلیف عدالتوں سے ہی ملے گا، جیسے نواز شریف کو جو بھی ریلیف ملا وہ عدالتوں سے ملا۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں میں بھاری رقوم کی ضمانتیں دی گئیں اور جب میاں نواز شریف ملک سے باہر گئے تب بھی گارنٹی فراہم کی گئی تھی۔

حکومت نے اپوزیشن کو کہا کہ وہ کمیٹیوں میں واپس آجائیں، اگر اسے کوئی ڈیل یا آفر کہا جاتا ہے تو یہ سیاسی عمل کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق استعفے منظور نہیں کیے گئے اور کوشش ہے کہ اپوزیشن دوبارہ پارلیمانی کمیٹیوں میں شامل ہو۔رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ محمود اچکزئی سے فون پر بات ہوئی تھی اور انہوں نے کہا تھا کہ بیٹھ کر بات کریں گے، تاہم ابھی تک اسپیکر کو کمیٹیوں میں واپسی سے متعلق باضابطہ آگاہ نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر کا ملنا آئینی ضرورت ہے اور وزیر اعظم اپوزیشن لیڈر سے ملاقات سے انکار کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔

مزید پڑھیں :پی ٹی آئی پر کون قبضہ کرنا چاہتا ہے،نام سامنے آگیا،جا نئے تفصیلات

متعلقہ خبریں