راولپنڈی ( اے بی این نیوز )ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ امن بورڈ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے اجلاس میں شریک تمام رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ بورڈ آف پیس میں شامل تمام سربراہوں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ امریکی صدر نے بتایا کہ ان کی قیادت میں اب تک آٹھ جنگیں رکائی گئی ہیں اور یہ سب امن کے قیام کے لیے کیا گیا ہے، اسی لیے اسے بورڈ آف پیس کا نام دیا گیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جنگ میں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کونسی ڈیل آسان ہے اور کونسی مشکل، تاہم انہوں نے اپنے دور میں مشکل اہداف حاصل کرنے کا دعویٰ کیا۔ ان کے مطابق امن کے قیام کے لیے گزشتہ 37 سال سے جاری جنگیں رکائی گئی ہیں اور غزہ امن بورڈ موجودہ وقت کا سب سے اہم اقدام ہے۔
انہوں نے کہا کہ امن کے قیام کے لیے سب مل کر کام کر رہے ہیں اور 9ویں جنگ کے خاتمے کے قریب ہیں۔ صدر ٹرمپ نے عالمی رہنماؤں کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہترین قرار دیا اور اجلاس میں شریک وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے دو کروڑ سے زائد انسانی جانیں بچانے میں مدد کی، جبکہ فیلڈ مارشل ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد فائٹر ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی تجارتی شراکت داری کو بھی سراہا اور کہا کہ انہوں نے دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ روکنے میں اہم کردار ادا کیا، اور پاک،بھارت تنازع میں گیارہ طیارے گرائے جانے کے باوجود امن قائم رہا۔ انہوں نے اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا خصوصی طور پر شکریہ بھی ادا کیا۔
انہوں نے غزہ امن بورڈ کو پائیدار امن کے قیام کے لیے سب سے اہم فورم قرار دیا اور کہا کہ اس کے متبادل کوئی موجود نہیں، اس میں دنیا کے اہم ممالک شامل ہیں اور یہ عالمی سطح پر مضبوط ترین امن بورڈ ہے۔امریکی صدر نے کہا کہ غزہ کے لوگوں کے لیے روشن مستقبل چاہتے ہیں اور آرمینیا و آذربائیجان نے امن کا انتخاب کرتے ہوئے معاہدہ کیا۔ انہوں نے پاک،بھارت جنگ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی شدید تھی،
لیکن امریکہ نے اپنا کردار ادا کر کے جنگ کو روکا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم کو خبردار کیا گیا تھا کہ اگر جنگ نہ روکی گئی تو بھاری ٹیرف عائد کیے جائیں گے اور اس دوران پاک-بھارت جنگ میں 11 جیٹ طیارے گرائے گئے۔غزہ امن بورڈ اجلاس ڈونلڈ ٹرمپ انسٹیٹیوٹ آف پیس میں منعقد ہو رہا ہے جس میں وزیراعظم شہباز شریف بھی شریک ہیں۔ اجلاس شروع ہونے سے پہلے شرکاء کا گروپ فوٹو سیشن ہوا۔ اجلاس میں پاکستان سمیت 47 ممالک شریک ہیں، اور اسرائیل و یورپی یونین بھی اس میں شامل ہیں۔
مودی کو بتایا کہ جنگ نہ روکی توبھاری ٹیرف لگاؤں گا۔ ایک شخص نے چیخ کر کہا200 فیصد ٹیرف نہیں لگانا،ایسا نہیں کرنا۔ بہت سے لوگوں کو آئیڈیا نہیں کہ جنگ میں 11طیارے گر چکے تھے۔ مودی کو بتایا کہ جنگ نہ روکی توبھاری ٹیرف لگاؤں گا۔ ایک شخص نے چیخ کر کہا200 فیصد ٹیرف نہیں لگانا،ایسا نہیں کرنا۔
مزید پڑھیں :رمضان پیکیج، فوری مالی امداد، جا نئے مستحقین کا انتخاب کیسے کیا جائیگا















