لندن ( اے بی این نیوز )برطانوی پولیس نے شاہی خاندان کے اہم رکن شہزادہ اینڈریو کو حراست میں لے کر باضابطہ تفتیش شروع کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق کارروائی نورفوک میں واقع سینڈ رنگھم اسٹیٹ میں ان کی رہائش گاہ پر کی گئی جہاں تلاشی بھی لی گئی اور متعلقہ دستاویزات قبضے میں لے لی گئیں۔تحقیقات کا مرکز وہ الزامات ہیں جن کے مطابق شہزادہ اینڈریو نے اپنے سرکاری اور سفارتی کردار کے دوران حساس حکومتی معلومات بدنام زمانہ امریکی مجرم جیفری ایپسٹین تک پہنچائیں۔ یہ انکشاف مبینہ طور پر ان دستاویزات کے جائزے کے بعد سامنے آیا جو حالیہ عرصے میں امریکی حکومت کی جانب سے جاری کی گئی تھیں۔ ان دستاویزات میں بعض ملاقاتوں، خط و کتابت اور ممکنہ معلومات کے تبادلے کا ذکر کیا گیا ہے جن کی نوعیت کا تعین اب تفتیشی ادارے کر رہے ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق شہزادہ اینڈریو سے ابتدائی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور ڈیجیٹل ریکارڈ، سرکاری فائلوں اور ذاتی رابطوں کا فرانزک جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک باضابطہ فرد جرم عائد نہیں کی گئی تاہم شواہد کی روشنی میں آئندہ قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ برطانوی قوانین کے تحت عوامی عہدے کے غلط استعمال اور ریاستی معلومات کے غیر مجاز افشا جیسے الزامات سنگین نوعیت کے تصور کیے جاتے ہیں۔
پس منظر کے طور پر شہزادہ اینڈریو کے جیفری ایپسٹین کے ساتھ تعلقات ماضی میں بھی شدید تنازع کا باعث بن چکے ہیں۔ ان روابط کے باعث انہیں عوامی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا تھا اور بعد ازاں ان سے شاہی اعزازات اور سرکاری ذمہ داریاں واپس لے لی گئی تھیں۔ اس وقت کے فیصلے کی توثیق شاہی محل کی جانب سے کی گئی تھی اور انہیں عملی طور پر عوامی فرائض سے الگ کر دیا گیا تھا۔ شہزادہ اینڈریو موجودہ بادشاہ شاہ چارلس سوم کے بھائی ہیں۔حکام نے واضح کیا ہے کہ تفتیش جاری ہے اور حتمی نتائج سامنے آنے تک کسی بھی قسم کا فیصلہ قبل از وقت ہوگا۔ مزید پیش رفت سرکاری اعلامیوں اور عدالتی کارروائی کے بعد سامنے آئے گی۔
مزید پڑھیں :پاکستان میں آج بھی سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ















