اسلام آباد ( اے بی این نیوز )مشیرِ وزیراعظم برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ عمران خان معاملات کو سیاسی طریقے سے حل کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کے اندر تین سے چار گروپ موجود ہیں اور ان کا کوئی ایک متفقہ مؤقف سامنے نہیں آ رہا۔رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ بانی کے علاج سے متعلق ان کے معالجین نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ فیلڈ کے تین سینئر اسپیشلسٹ ڈاکٹروں نے معائنہ کیا، رپورٹ سپریم کورٹ آف پاکستان میں پیش کی گئی اور عدالت نے بھی اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ذاتی ڈاکٹروں سے بھی مشاورت ہوئی جنہوں نے اعتماد ظاہر کیا، اس لیے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی یا غفلت کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ ان کے بقول بانی کی آنکھ کا بہترین علاج پاکستان میں ممکن ہے اور جدید طبی سہولیات ملک میں دستیاب ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فیملی اور پارٹی کو معائنے میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی تھی مگر وہ خود شریک نہیں ہوئے۔ ملاقاتوں کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ کچھ معلومات ایسی ہیں جو منظر عام پر نہیں لائی جا سکتیں۔ اگر ضابطوں اور قواعد کی پاسداری کی یقین دہانی کرائی جائے تو ملاقاتوں میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ عدالت کے طے شدہ طریقہ کار اور ہائی کورٹ کے آرڈر کے مطابق ملاقاتیں بحال ہو سکتی ہیں۔ متعدد سیاسی شخصیات مسئلے کے سیاسی حل کی خواہاں ہیں، تاہم حتمی اور فیصلہ کن رائے مرکزی قیادت کی ہوگی۔ ان کے مطابق مذاکرات اور رابطوں کی باتیں اپنی جگہ مگر عملی نتائج کا انتظار ہے، اور جب تک قیادت کی جانب سے واضح اشارہ نہیں ملتا تجاویز مؤثر ثابت نہیں ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی کشیدگی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اور بامعنی بات چیت ناگزیر ہے، لیکن بعض معاملات پر کھل کر بات نہیں کی جا سکتی اور اشاروں میں گفتگو جاری ہے۔اے بی این نیوز کے پروگرام ’’سوال سے آگے‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے
رانا ثنا اللہ نے یہ بھی کہا کہ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عوامی راستے کھلوائے جائیں، عدالت نے بھی راستے کھولنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ آرٹیکل 15 کے تحت شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے اور مسئلے کا حل آئین اور قانون کے مطابق ہی نکالا جائے گا۔ سیاسی دباؤ کے باوجود معاملہ پرامن اور آئینی طریقے سے حل کیا جائے گا۔عمران خان کے علاج کے حوالے سے ان کے معالجین سے اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے اور انہیں ملک میں دستیاب جدید طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق فیلڈ کے تین بہترین اسپیشلسٹ ڈاکٹروں نے ان کا تفصیلی معائنہ کیا اور عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ کو شفاف اور مکمل قرار دیا گیا ہے۔حکومتی موقف کے مطابق فیملی اور پارٹی نمائندگان کو کہا گیا تھا کہ وہ طبی معائنے میں شامل ہوں، تاہم وہ خود شریک نہیں ہوئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان عمران خان کے حوالے سے جو بھی حکم دے گی، اس پر مکمل عملدرآمد کیا جائے گا، اور علاج کے معاملے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتی جائے گی۔
ملاقاتوں کے معاملے پر حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی بعض شرائط پر مشاورت جاری ہے، تاہم کچھ معلومات ایسی ہیں جو منظرِ عام پر نہیں لائی جا سکتیں۔ ذرائع کے مطابق اگر اہلِ خانہ تحریری یقین دہانی کروا دیں کہ ملاقات کے دوران سیاسی گفتگو نہیں ہوگی تو ملاقاتوں کا سلسلہ بحال کیا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں عظمیٰ خان کی جانب سے سپرنٹنڈنٹ کو یقین دہانی کروانے کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ سیاسی گفتگو نہیں ہوگی۔حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر تین سے چار گروپ موجود ہیں اور ان کا کوئی متفقہ مؤقف سامنے نہیں آ رہا، جبکہ عمران خان معاملات کو سیاسی طریقے سے حل کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
مزید پڑھیں :جیل میں بیٹھے رہنما عمران خان کی صحت اور تضحیک پر عوامی تشویش برقرار ہے، محمد علی درانی















