اہم خبریں

برطانیہ کا وزیر اعظم اور چیف جسٹس کو عمران خان کی صحت سے متعلق خط

اسلام آباد (اے بی این نیوز) برٹش پاکستانی سائیکاٹرسٹ ایسوسی ایشن (BPPA) نے پاکستان کے وزیراعظم محترم شہباز شریف کو لکھے گئے ایک خط میں سابق وزیراعظم عمران خان کی حراست میں جسمانی اور ذہنی صحت کے حوالے سے فوری حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کر دیا۔ ایسوسی ایشن نے طویل قید تنہائی کے ممکنہ جسمانی اور نفسیاتی خطرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور بین الاقوامی معیارات کے مطابق فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

BPPA نے خط میں واضح کیا کہ انہوں نے مسٹر خان کا معائنہ نہیں کیا اور نہ ہی کوئی تشخیص پیش کی ہے، تاہم معتبر رپورٹس اور بین الاقوامی بیانات کے مطابق حراست میں طویل تنہائی کے ممکنہ

نقصان دہ اثرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ایسوسی ایشن نے کہا کہ بین الاقوامی طور پر طویل قید تنہائی کو دن میں 22 گھنٹے یا اس سے زیادہ انسانی رابطے کے بغیر اور مسلسل 15 دنوں سے زیادہ کی مدت کے لیے تسلیم کیا گیا ہے، جو دماغی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

خط میں بتایا گیا کہ طویل قید تنہائی سے شدید اضطراب، افسردگی، نیند میں خلل، علمی اور ادراکی مسائل، جذباتی بے ضابطگی، اور خود کو نقصان پہنچانے یا خودکشی کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ برٹش پاکستانی سائیکاٹرسٹ ایسوسی ایشن نے عالمی میڈیکل اسٹڈیز اور میٹا اینالیسیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ طویل قید تنہائی کے منفی اثرات انتہائی سنگین اور بعض اوقات ناقابل واپسی ہو سکتے ہیں۔

BPPA نے وزیراعظم سے اپیل کی ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو حراست کی موجودہ قانونی صورتحال سے قطع نظر، مناسب طبی دیکھ بھال اور حفاظتی انتظامات فراہم کیے جائیں تاکہ بین الاقوامی معیارات کے مطابق انسانی اور طبی حقوق کا احترام کیا جا سکے۔ ایسوسی ایشن نے مزید کہا کہ وہ تکنیکی مشورے اور نفسیاتی رہنمائی بھی فراہم کرنے کے لیے دستیاب ہیں۔

خط کی کاپی وزیر داخلہ، وزیر برائے نیشنل ہیلتھ سروسز، انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات، چیف جسٹس آف پاکستان اور پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کو بھی بھیجی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں